سابق بھارتی کرکٹ کپتان سارو گنگولی اور فلم ’دوسرا: انڈیا از ادر فریڈم اسٹرگل‘ کے درمیان شخصی حقوق کا تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے فلم سازوں کو فلم میں ڈسکلیمر شامل کرنے اور 2 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
گنگولی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم سازوں نے ان کی اجازت کے بغیر ان کی شناخت، شخصیت اور کرکٹ کیریئر کے نمایاں واقعات کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اس تنازع میں پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنی لوو فلمز بھی شامل ہے، جس نے گنگولی کی زندگی پر فلم بنانے کے حقوق حاصل کر رکھے ہیں۔ اس مجوزہ فلم کا نام ’دادا: دی سارو گنگولی اسٹوری‘ ہے، جس میں راج کمار راؤ مرکزی کردار ادا کریں گے۔
تنازع فلم ’دوسرا: انڈیا از ادر فریڈم اسٹرگل‘ کی 23 اکتوبر کو سنیما گھروں میں ریلیز سے پہلے شروع ہوا۔ گنگولی اور لوو فلمز ایل ایل پی نے فلم سازوں کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سابق کرکٹر کی شناخت اور ان کے کیریئر سے جڑے واقعات کو اجازت کے بغیر فلم میں شامل کیا گیا ہے۔ لوو فلمز کا کہنا ہے کہ اس سے گنگولی کی زندگی پر فلم بنانے کے لیے کمپنی کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت حاصل حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔
گنگولی کی قانونی ٹیم نے بالخصوص لارڈز کے تاریخی میدان میں 2002 کے نیٹ ویسٹ سیریز فائنل کی عکاسی پر اعتراض کیا۔ اس میچ میں بھارت کی فتح کے بعد گنگولی نے بالکونی میں اپنی شرٹ اتار کر جشن منایا تھا۔ ان کے وکیل کے مطابق فلم کا دوسرا حصہ بڑی حد تک اسی فائنل پر مبنی ہے اور سابق کرکٹر سے وابستہ مناظر کو فلم کی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
فلم سازوں کا مؤقف ہے کہ ’دوسرا‘ گنگولی کی سوانح عمری نہیں، بلکہ راجستھان سے تعلق رکھنے والی ایک متوسط طبقے کی لڑکی کی فرضی کہانی ہے، جو کرکٹر کی کامیابیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ ان کی قانونی ٹیم نے یہ بھی کہا کہ 2002 کے نیٹ ویسٹ سیریز کی فوٹیج استعمال کرنے کے لیے بھارتی اور انگلش کرکٹ بورڈز سے اجازت لی گئی تھی۔
ابتدائی سماعتوں میں دہلی ہائی کورٹ نے فلم کی نمائش روکنے کی گنگولی کی درخواست مسترد کردی تھی۔ تاہم عدالت نے فلم سازوں سے جواب طلب کیا اور فلم کی خصوصی اسکریننگ کا انتظام کرنے کی ہدایت دی، تاکہ اعتراضات کا جائزہ لیا جاسکے۔
29 اکتوبر کی سماعت میں عدالت نے گنگولی سے کہا تھا کہ وہ فلم کے ان مخصوص حصوں کی نشاندہی کریں جنہیں وہ اپنے شخصی حقوق کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔
Source link

