
(ویب ڈیسک )بھارت میں پٹرول کے اندر ایتھنول کی مقررہ مقدار سے زیادہ آمیزش کا معاملہ تنازع کی شکل اختیار کرگیا۔
مودی حکومت کی وزارت پٹرولیم نے ریاست کرناٹک کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی سطح پر کیے گئے ٹیسٹ میں ایندھن قومی معیار کے مطابق پایا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کرناٹک کی اپوزیشن جماعت کی حکومت کے ایک وزیر نے جمعے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ ریاست میں جن پٹرول پمپس کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے ہر پانچ میں چار پمپ ایسے تھے جہاں فروخت ہونے والے پٹرول میں ایتھنول کی مقدار مقررہ 20 فیصد حد سے زیادہ تھی۔
اس انکشاف کے بعد بھارت میں ایندھن کے معیار اور صارفین کو فراہم کیے جانے والے پٹرول کی شفافیت سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزارت پٹرولیم نے ہفتے کے روز کرناٹک حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ریاستی حکام نے پٹرول کے نمونے کس طریقہ کار کے تحت حاصل کیے اور ان کی جانچ کیسے کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے بغیر الیکشن کی تیاری،جے ڈی وینس نے اپنی الگ سیاسی شناخت بنانے کی کوشش شروع کردی
وزارت کے مطابق سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پٹرولیم اور ہندوستان پٹرولیم نے بھی کرناٹک حکومت کے نتائج پر اعتراضات اٹھائے ہیں اور حاصل کیے گئے نمونوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تنازع بھارت میں E20 پٹرول کے استعمال میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے۔ E20 ایسا ایندھن ہے جس میں 20 فیصد ایتھنول اور 80 فیصد پٹرول شامل ہوتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے ایتھنول ملا پٹرول استعمال کرنے کی پالیسی کو فروغ دیا ہے، جس کا مقصد خام تیل کی درآمدات میں کمی، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور ملک کے مقامی ایتھنول پیدا کرنے والے شعبے کو سہارا دینا ہے۔
ادھر کانگریس رہنما راہول گاندھی نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے مبینہ طور پر مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملانے کو ’’پٹرول کی چوری‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ پٹرول میں ایتھنول کی اصل مقدار عوام کے سامنے ظاہر کی جائے اور مقررہ معیار سے زیادہ آمیزش کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
رائٹرز کے مطابق اس معاملے پر اب کرناٹک حکومت اور مرکزی وزارت پٹرولیم کے درمیان اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ ایک طرف ریاستی وزیر کے دعوے نے ایندھن کے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں تو دوسری جانب مرکزی حکومت نے اپنے ٹیسٹ کے نتائج کو قومی معیار کے مطابق قرار دیا ہے۔
اب اس تنازع میں آزادانہ لیبارٹری ٹیسٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے، جس سے یہ واضح ہوسکے گا کہ آیا واقعی بعض پٹرول پمپس پر مقررہ حد سے زیادہ ایتھنول ملایا گیا تھا یا ریاستی حکومت کے نمونے لینے اور جانچنے کے طریقہ کار میں کوئی مسئلہ تھا۔

