ڈھاکا: بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزمان ملک کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنا دی۔ عدالت کے مطابق دونوں نے گزشتہ سال طلباء کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے قتل میں اہم کردار ادا کیا اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی۔
عدالت کے کٹہرے میں اس وقت صرف سابق پولیس چیف موجود تھے، جبکہ حسینہ واجد اور اسد الزمان ملک فرار ہوچکے ہیں۔ استغاثہ نے عدالت میں پیش کی گئی تفصیلی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں، مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا اور بیگم رقعیہ یونیورسٹی کے طالب علم ابو سعید سمیت متعدد افراد کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق، مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے۔ عدالت میں پیش کیے گئے دستاویزی ثبوتوں اور 80 عینی شاہدین کی گواہیوں سے یہ بات سامنے آئی کہ مظاہرین کے قتل میں حکومت کے اعلیٰ عہدیداران شامل تھے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت میں بتایا کہ حسینہ واجد نے مظاہرین کو قتل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے استعمال کی اجازت دی اور مختلف شہروں میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی گئی، جبکہ آشولیا میں چھ افراد کو زندہ جلایا گیا۔
حکومتی ترجمان نے فیصلے پر فوری ردعمل میں کہا کہ عدالت کا فیصلہ سیاسی بنیادوں پر اثر انداز ہونے والے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ حسینہ واجد اور اسد الزمان ملک کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان موصول نہیں ہوا۔

