ایران: استقامت کی نصف صدی — طوفانوں میں گھرا ہوا ایک جزیرہ

IMG 20260130 WA0192

(تحریر بشارت حسین زاھدی)

​فروری 1979 کی ایک سرد صبح نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ ایران میں آنے والا انقلاب محض ایک حکمران کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے نئے نظام کا آغاز تھا جس نے ‘نہ شرقی، نہ غربی’ (نہ مشرق، نہ مغرب) کا نعرہ لگا کر وقت کی سپر طاقتوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا۔ آج ساڑھے چار دہائیاں گزرنے کے باوجود، ایران کا عالمی دباؤ کے سامنے ڈٹے رہنا سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے ایک معمہ بھی ہے اور مطالعے کا مرکز بھی۔
​مشکلات کا کوہِ گراں: آزمائشوں کا سفر
​انقلاب کے فوراً بعد ایران کو جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، وہ کسی بھی نوزائیدہ ریاست کو بکھیرنے کے لیے کافی تھے۔
​آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ: انقلاب کے ابھی پاؤں بھی نہیں جمے تھے کہ پڑوسی ملک عراق کے ساتھ ایک طویل اور خونی جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ میں ایک طرف تنہا ایران تھا اور دوسری طرف دنیا کی بڑی طاقتوں کی مادی اور عسکری حمایت یافتہ عراقی مشینری۔
​اقتصادی ناکہ بندی (پابندیاں): دہائیوں سے جاری امریکی اور بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کا گھیرا تنگ کیے رکھا۔ تیل کی فروخت پر پابندی سے لے کر بین الاقوامی بینکنگ سسٹم تک رسائی روکنے تک، ہر حربہ آزمایا گیا۔
​سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور سائبر حملے: ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے اس کے چوٹی کے سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ‘سٹکس نیٹ’ جیسے پیچیدہ وائرسز کے ذریعے اس کی تنصیبات پر سائبر حملے کیے گئے۔
​استقامت کے اسباب: ایران کیسے کھڑا رہا؟
​سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام تر پابندیوں اور اندرونی و بیرونی دباؤ کے باوجود ایران کیسے ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا؟ اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
​نظریاتی وابستگی: ایرانی عوام اور قیادت کے درمیان ایک گہرا نظریاتی رشتہ موجود ہے۔ ‘کربلا’ کے فلسفے اور ‘ظلم کے سامنے نہ جھکنے’ کی روایت نے انہیں نفسیاتی طور پر مضبوط رکھا۔
​دفاعی خود انحصاری: پابندیوں نے ایران کو یہ سکھایا کہ وہ اپنے ہتھیار خود بنائے۔ آج ایران ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل پروگرام میں دنیا کے اہم ممالک کی صف میں شامل ہے۔
​تزویراتی گہرائی: ایران نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ لبنان، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک میں اپنے اتحادی بنا کر اپنی دفاعی لائن کو سرحدوں سے دور کر دیا۔​موجودہ صورتحال اور عالمی توازن
​آج کا ایران ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ ایک طرف جوہری معاہدےکی بحالی کی جدوجہد کر رہا ہے اور دوسری طرف ‘برکس اور ‘شنگھائی تعاون تنظیم’ جیسے نئے عالمی بلاکس میں شامل ہو کر امریکی اجارہ داری کو چیلنج کر رہا ہے۔ روس اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے سٹریٹجک تعلقات نے ایران کو وہ معاشی آکسیجن فراہم کی ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔
​حاصلِ کلام
​ایران کی کہانی صرف بقا کی کہانی نہیں بلکہ ‘مزاحمت کی سیاست’ کا ایک عملی نمونہ ہے۔ سپر طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہونا کوئی آسان راستہ نہیں تھا، اس کی قیمت ایران کے عام شہری نے مہنگائی اور معاشی تنگی کی صورت میں ادا کی ہے۔ تاہم، تاریخ یہ ثابت کر رہی ہے کہ جغرافیائی سیاست میں جب کوئی قوم اپنے فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیتی ہے، تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے جھکانے میں ناکام رہتی ہے۔
​ایران کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ‘مزاحمتی معیشت’ کو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کرتا ہے اور اندرونی اصلاحات کے ذریعے عوامی امنگوں کو کیسے پورا کرتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ