اسلام آباد/کوئٹہ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان سے منسلک 22 مزید دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ قوم کو وطنِ عزیز کے بہادر سپوتوں پر فخر ہے
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، رات بھر جاری رہنے والی فالو اپ کارروائیوں میں 22 مزید دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جس سے گزشتہ تین دنوں میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی تعداد کم از کم 177 تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ "فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "سکیورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیز نے بروقت اور موثر کارروائی کر کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔”
محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ "قوم کو وطنِ عزیز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے۔”
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو کہا تھا کہ صوبے بھر میں انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیوں میں 40 گھنٹوں کے اندر کم از کم 145 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، اور اسے مختصر ترین مدت میں کی جانے والی سب سے بڑی انسداد دہشت گردی مہمات میں سے ایک قرار دیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ "سکیورٹی فورسز، پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیز نے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کو ناکام بنایا
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو بلوچستان میں حالیہ حملوں کے لیے براہِ راست بھارت کو ذمہ دار قرار دیا، اور الزام لگایا کہ نئی دہلی ان واقعات کی منصوبہ بندی اور حمایت میں ملوث ہے
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے ساتھ ویڈیو بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ جس طریقے سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان کو انجام دیا گیا، نیز پولیس، فرنٹیئر کور اور پاک فوج کی جانب سے جواب، خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
نقوی نے کہا کہ حکام کے پاس حملوں کے سرغنوں اور ان کے آپریشنل مقامات کے بارے میں تقریباً تمام معلومات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا "ہم انہیں دنیا کے سامنے بے نقاب کریں گے — وہ چہرہ جس کے ساتھ وہ عوامی طور پر لوگوں سے ملتے ہیں اور وہ چہرہ جس کے ساتھ وہ دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں”
وزیر داخلہ نے کہا کہ "فتنہ الہندوستان اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے آخری حد تک جائیں گے

