اسلام آباد —
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم اب تک گوریلا ذہنیت سے باہر نہیں نکلی، اور جب تک وہ دوسروں کی پراکسی بننا بند نہیں کریں گے، پاک افغان تعلقات میں بہتری ممکن نہیں۔
ایک بیان میں وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجہ ایک غیر ذمہ دار ہمسایہ ملک کا رویہ ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح یہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیے جائیں، تاہم طالبان کا طرز عمل اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان وہی مطالبات کر رہا ہے جو پوری دنیا افغان رجیم سے کرتی ہے، یعنی دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات، دوسرے ممالک کی زمین کو پراکسی جنگ کے لیے استعمال نہ کرنے دینا، اور ایک ذمہ دار ریاست کی طرح برتاؤ کرنا۔
وزیر مملکت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک طالبان قیادت گوریلا جنگجوؤں والی سوچ نہیں چھوڑتی، پاکستان کا ردِ عمل اسی کے مطابق رہے گا۔

