پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس وقت خطرناک حد کو چھو گئی جب پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان حکومت کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس سنگین صورتحال پر اقوامِ متحدہ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں ممالک سے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران نے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی۔
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: "پاکستان نے براہِ راست اور دوست ممالک کے ذریعے صورتحال کو معمول پر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی، بھرپور سفارت کاری کی، لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ اب ہمارے اور تمہارے درمیان کھلی جنگ ہے۔” یہ اعلان افغانستان پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد آیا جن میں کابل، قندھار اور پکتیا صوبے کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی ترجمان کے مطابق ان حملوں میں ۱۳۳ افغان طالبان جنگجو ہلاک اور ۲۰۰ سے زائد زخمی ہوئے، تاہم افغانستان نے ان اعداد کو مسترد کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیرش نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے پریس بریفنگ میں کہا کہ سیکریٹری جنرل دونوں فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ گتیرش نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات سفارتی ذرائع سے حل کریں۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے بھی فوری سیاسی مکالمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال طاقت کے مزید استعمال کے بجائے فوری سیاسی گفتگو کی متقاضی ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات مکالمے اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کے تحت حل کریں اور اعلان کیا کہ ایران اس عمل میں معاونت کے لیے تیار ہے۔
چین نے بھی پاک-افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ بیجنگ اپنے چینلز کے ذریعے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے اور صورتحال کو ٹھنڈا کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ۲۶۱۱ کلومیٹر طویل سرحد پر کشیدگی اس وقت سے بڑھتی جا رہی ہے جب اکتوبر میں ہونے والی لڑائی میں دونوں جانب ۷۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ پاکستان الزام لگاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے، جسے کابل مسترد کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں جانب سے فوری تحمل نہ برتا گیا اور سفارتی راستہ نہ اپنایا گیا تو یہ تنازع پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا

