اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی نے عالمی فضائی راستوں کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ متبادل فضائی روٹس کی تلاش میں بین الاقوامی ایئر لائنز کا رخ پاکستان اور افغانستان کی فضائی حدود کی جانب ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں اوور فلائنگ میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پروازوں کی عالمی نگرانی کرنے والے ادارے Flightradar24 کے اعداد و شمار کے مطابق پاک-افغان فضائی کوریڈور اس وقت دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں میں شامل ہو چکا ہے۔ یورپ سے ایشیا، مشرق بعید اور آسٹریلیا جانے والی سیکڑوں پروازیں روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی فضائی حدود سے گزر رہی ہیں۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے ذرائع نے بتایا کہ اوور فلائنگ میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستان کو لاکھوں ڈالر کی اضافی آمدن حاصل ہو رہی ہے اور اگر خطے میں موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ آمدن مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایوی ایشن سیکٹر کو اس صورتحال سے خاطر خواہ معاشی فائدہ پہنچ رہا ہے، تاہم فضائی ٹریفک کنٹرول پر دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

