لندن/واشنگٹن: برطانیہ کے معروف اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر فوجی کارروائی تو کر رہے ہیں، تاہم اس جنگ کے بعد کے حالات سے نمٹنے کا کوئی واضح لائحہ عمل ان کے پاس موجود نہیں۔
اخبار کے مطابق ایران میں رجیم چینج کی کوشش میں صرف فضائی حملوں پر انحصار انتہائی خطرناک حکمت عملی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹرمپ کا یہ طرزِ عمل 2003ء کے عراق اور 2001ء کے افغانستان ماڈل سے یکسر مختلف ہے، جہاں کم از کم ابتدائی زمینی حکمت عملی موجود تھی۔
فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کی ہدایت تو دی گئی ہے، مگر اس عمل کو عملی جامہ پہنانے کا کوئی واضح طریقہ کار موضوع بحث نہیں۔ اخبار نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ طویل جنگ کی صورت میں خلیجی ریاستوں میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی عوام میں بھی اس کارروائی کی حمایت محدود ہے اور صرف 27 فیصد امریکی شہری ایران پر فوجی کارروائی کے حق میں ہیں۔ واشنگٹن نے زمینی فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم بعد از جنگ حکمت عملی مکمل طور پر غیر واضح ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ایران کی ملٹری کمان مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہے اور بہت سے افراد ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات، ایرانی فضائی دفاعی نظام، 9 بحری جہاز اور ایرانی بحریہ کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ مقررہ اہداف کے حصول تک فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

