"ایران کی قیادت کا صفایا جاری رہے گا” — ٹرمپ کا پوری قوت سے حملے جاری رکھنے کا اعلان
واشنگٹن —
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور جو بھی ایران میں قیادت سنبھالنے کی کوشش کرے گا، وہ نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران "ایک ہی وار میں 48 ایرانی قائدین مارے گئے”۔ )
پہلے ہم نے مارا — ٹرمپ کا جواز
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے اس لیے حملہ کیا کیونکہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا تھا اور امریکہ کو یقین تھا کہ اس سے امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملہ ہوتا، لہٰذا امریکہ نے پہلے ایران کو نشانہ بنا لیا۔
دو ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا ایران
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے فاکس نیوز پر دعویٰ کیا کہ ایران 60 فیصد یورینیم افزودگی کر رہا تھا اور ایٹمی بم بنانے کے مواد سے صرف ایک ہفتہ دور تھا۔ (FDD) تاہم ماہرین نے اس دعوے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یورینیم افزودگی سے مکمل جوہری ہتھیار بنانے میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔
اوباما پر الزام
ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ کی گئی ایٹمی ڈیل کو "بدترین معاہدہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوباما دور کے اس معاہدے نے ایران کو جوہری پروگرام آگے بڑھانے کا موقع دیا۔
جنگ کتنی طویل؟
ٹرمپ نے بتایا کہ یہ جنگ چار سے پانچ ہفتے جاری رہنے کا ابتدائی تخمینہ ہے، تاہم امریکی فوج کے پاس اس سے کہیں زیادہ عرصے تک لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔

