تہران / واشنگٹن
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔ مجلس خبرگان نے ایرانی قوم سے اتحاد برقرار رکھنے اور نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا اور نہ ہی عوامی انتخاب میں حصہ لیا، تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک انتہائی بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
ان کی نامزدگی کے بعد ایرانی عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ نئے ایرانی سپریم لیڈر کو امریکا سے منظوری لینی ہوگی، ورنہ وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکیں گے۔ اسرائیل نے بھی واضح کیا تھا کہ نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے۔

