واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی ذمہ داری اپنے خصوصی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، داماد جیراڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر ڈال دی ہے۔ فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے یہ اہم انکشاف کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے بارے میں صورتحال بہت تیزی سے پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گئی تھی۔ ان کے بقول اسٹیو وٹکوف، جیراڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی ایران کے ساتھ گفتگو کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ ایران امریکا پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایران ہم پر حملہ کر دیتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے 100 فیصد یقین تھا کہ ایران ایک ہفتے کے اندر امریکا پر حملہ کر دیتا۔
تین اہم شخصیات جن پر ذمہ داری ڈالی گئی:
اسٹیو وٹکوف — خصوصی مذاکرات کار، ٹرمپ انتظامیہ
جیراڈ کشنر — ٹرمپ کے داماد و سینئر مشیر
پیٹ ہیگسیتھ — وزیر دفاع، امریکا
تینوں افراد نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ تہران حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ وزیر دفاع ہیگسیتھ نے فوجی نقطہ نظر سے ایران کی جنگی تیاریوں کی مکمل تفصیلات صدر کے سامنے رکھیں اور حملے کو ناگزیر قرار دیا۔
ٹرمپ کے اس بیان نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ عموماً ایسے اہم فوجی فیصلوں کی ذمہ داری صدر خود قبول کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ فیصلے کی جوابدہی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ریپبلکن اراکین نے صدر کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر روس اور چین نے امریکی حملے پر تنقید کی ہے جبکہ اقوام متحدہ نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

