خطے کا حل بالآخر سفارتکاری میں ہے، اماراتی وزیر مملکت
ابوظہبی / دبئی، 13 مارچ 2026: متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور لانا نسیبہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند نہیں کرتا، کوئی ثالثی ممکن نہیں۔
رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے لانا نسیبہ نے کہا: "جب حملے ہو رہے ہوں تو ثالثی کی بات کرنا مشکل ہے۔ ثالثی صرف اسی وقت ممکن ہے جب بندوقیں خاموش ہو جائیں۔” انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ صدر ٹرمپ "اپنے وقت پر” ایران کے ساتھ جنگ کا سفارتی حل نکالیں گے۔ (The Hill)
اماراتی وزیر مملکت نے بتایا کہ ایران نے دبئی ایئرپورٹ، نمایاں ہوٹلوں اور مالیاتی مراکز کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران یو اے ای کے اقتصادی ماڈل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم جنگ سے پہلے انہیں تہران دورے میں ایرانی حکام نے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا کہ یو اے ای کو نشانہ بنایا جائے گا، جو کہ بہت "چونکا دینے والا اور ناقابلِ قبول” اقدام تھا۔ (The Hill)
ایک اماراتی سفارتی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا: "ایران کے ساتھ کسی بھی مستقبل کے سمجھوتے میں اب صرف جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ میزائل پروگرام بھی مرکزی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔” (Military Times)
لانا نسیبہ نے یہ بھی کہا کہ یو اے ای کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہے: ائیرپورٹ کھلے ہیں، پروازیں جاری ہیں، اور ملازمین کام پر واپس آ گئے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کی کرنسی اور معیشت زوال کا شکار ہے۔ (The Hill)

