پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کے نئے شواہد منظرِ عام پر

IMG 20260220 WA1945


اسلام آباد، 20 فروری 2026: پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ان حملوں کے تانے بانے افغان سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 16 فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ملنگی پوسٹ پر خودکش حملہ کرنے والا شخص افغان شہری تھا۔ حملہ آور کی شناخت احمد المعروف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی تھا۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ شخص افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔
اسی طرح 6 فروری کو اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے میں ملوث بمبار نے بھی افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شواہد اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور تربیت سرحد پار سے کی جا رہی ہے۔ پاکستان متعدد بار افغان عبوری حکومت کو ان خدشات سے آگاہ کر چکا ہے، تاہم صورتحال میں خاطرخواہ بہتری نہیں آئی۔
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی پہلے سے بڑھی ہوئی ہے۔

متعلقہ پوسٹ