تہران: ایران کے وزیر برائے انٹیلی جنس اسماعیل خطیب اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں اسماعیل خطیب کی شہادت نے حکومت اور عوام کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اسرائیلی فوج نے منگل کی شب تہران میں پاسداران انقلاب کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اسماعیل خطیب جاں بحق ہوگئے۔ ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ “عزیز ساتھیوں کے بزدلانہ قتل نے ہمیں دل شکستہ کر دیا ہے۔”
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان کی کارروائی کا مقصد ایران میں موجود فوجی تنصیبات تھیں، تاہم ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں وزیر اسماعیل خطیب سمیت متعدد افراد کی جانیں گئی ہیں۔
اس حملے کے بعد ایران کے مختلف حصوں میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جن میں صوبہ لورستان میں ہونے والے حملے میں 7 افراد شہید اور 56 زخمی ہوگئے ہیں۔ دیگر شہروں سے بھی درجنوں زخمی ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں ایران کے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی اپنے بیٹے سمیت شہید ہوگئے تھے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق کی گئی تھی۔
یہ حملہ ایران کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، جس سے خطے کی سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

