قطر پر حملہ ہوا تو ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو ’اڑا دیں گے‘- ٹرمپ

AP26077167356083 1024x600 1


امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد جاری جنگ میں متعلقہ ممالک کے حکام کے مطابق, ایران میں کم از کم 1,300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنان میں 960 سے زائد اور اسرائیل میں 14 افراد کی جان گئی ہے۔ وہیں،امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں اس کے 13 اہلکار ہلاک اور تقریباً 200 زخمی ہوئے ہیں۔

AP26077167356083 1024x600 1

اسرائیلی حملے کے بعد لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک عمارت سے اٹھتے آگ کے شعلے، 18 مارچ 2026۔ (فوٹو: اے پی/حسین ملا)

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری جنگ اب توانائی کے ڈھانچے کو براہ راست نشانہ بنانے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے باعث صورتحال اورسنگین ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے سب سے بڑے گیس ذخیرے ’ساؤتھ پارس ‘ کے حوالے سے سخت اور متنازعہ بیان دیا ہے۔

ٹرمپ نے بدھ کی رات سوشل میڈیا پر کہا کہ اسرائیل اب ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر مزید کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکہ ’پورے گیس فیلڈ کو اڑا دے گا۔ ‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایرانی میزائل حملوں سے قطر کے ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

توانائی کے ڈھانچے پر حملوں سے تشویش میں اضافہ

قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے بتایا ہے کہ حالیہ حملوں میں ایل این جی سے متعلق کئی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی۔ تاہم، اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ قطر عالمی توانائی مارکیٹ میں قدرتی گیس کا ایک بڑا سپلائر ہے، اس لیے ان حملوں کے اثرات بین الاقوامی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کے ڈھانچے پر حملوں کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔ نیویارک میں قائم تھنک ٹینک سوفن سینٹر نے اسے ’تنازع کا واضح پھیلاؤ‘  قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق، تیل کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات کے مقابلے میں ایل این جی پیدا کرنے والے ڈھانچے کی مرمت کہیں زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ہوتی ہے، خصوصی طور پر جنگی حالات میں۔ اس کا براہ راست اثر نہ صرف ایران کی معیشت بلکہ عام شہریوں کی زندگی پر بھی پڑے گا۔

تھنک ٹینک نے یہ بھی کہا کہ اس جنگ میں اسرائیل نے جن مقامات کو نشانہ بنایا ہے، ان میں ایران کے ادارے، قیادت اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں، جو داخلی کنٹرول کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد ملک کے اندر دباؤ بڑھانا اور صورتحال کو غیر مستحکم کرنا بتایا گیا ہے۔

’ہمیں علم نہیں تھا: ٹرمپ

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کی امریکہ کو پیشگی اطلاع نہیں تھی اور اس میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ تاہم، ذرائع کے حوالے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکہ کو اسرائیل کے اس منصوبے کی جانکاری دی گئی تھی، خواہ  اس نے براہ راست حصہ نہ لیا ہو۔

انہوں نے قطر کو’پوری طرح سے بے قصور‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے بغیر مکمل معلومات کے اس پر حملہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتنی بڑی تباہی کی منظوری نہیں دینا چاہتے، لیکن اگر قطر کے گیس ٹھکانوں پر دوبارہ حملہ ہوا تو امریکہ ’سخت کارروائی‘ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

عالمی توانائی منڈی پر اثرات

اس پورے معاملے نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ خلیجی خطے میں گیس اور تیل کی پیداوار اور سپلائی سے جڑے ڈھانچے پر حملوں سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں سے ایک ہے، اور اس پر کسی بڑے حملے کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر توانائی کے ڈھانچے پر حملے اسی طرح جاری رہے تو اس کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ