تہران / واشنگٹن / تل ابیب (نمائندہ خصوصی): مشرق وسطیٰ میں صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے 24 صوبوں پر حملوں میں 201 ایرانی شہری شہید اور 747 زخمی ہو گئے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر اور صدر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے ان حملوں کا فوری اور بھرپور جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر میزائل حملے کیے اور ساتھ ہی ریاض، دبئی، ابوظہبی، بحرین، کویت اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز بند
سب سے بڑی اور خطرناک پیشرفت یہ ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز صرف 40 کلومیٹر چوڑی یہ آبی گزرگاہ دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ خام تیل گزرتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، ایران اور دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ملک قطر اپنی توانائی برآمدات کے لیے اسی گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔ اوپیک رکن ممالک ایشیائی منڈیوں کو زیادہ تر خام تیل اسی راستے سے پہنچاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل منڈیوں میں شدید ہلچل متوقع ہے اور خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس صورتحال پر آج رات ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

