سڑک کی تزئین کاری کے دوران کاکوری کے شہیدوں کے مجسمے توڑے گئے، تنقید کے بعد ایف آئی آر

statues


اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں سڑک کی تزئین کاری کے دوران مبینہ طور پر کاکوری واقعہ کے شہیدوں—رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ—کے مجسمے توڑ دیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ معاملے پر بڑھتے ہوئے احتجاج کے درمیان منگل کی شام ٹھیکیدار کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

statues

کاکوری واقعہ کے شہیدوں – رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ کے ٹوٹے ہوئے مجسمے۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

نئی دہلی: اتر پردیش کے شاہجہاں پور میں سڑک کی تزئین کاری کے دوران مبینہ طور پر بلڈوزر سے کاکوری واقعہ کے شہیدوں—رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ—کے مجسمے توڑنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس واقعہ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق، بڑھتے ہوئے احتجاج کے درمیان منگل (24 مارچ) کی شام ایک کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

شاہجہاں پور سے تعلق رکھنے والے اور مجاہد آزادی رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ کے مجسمے میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے باہر واقع شہید یادگار پر لگے ہوئے تھے۔

الزام ہے کہ اتوار (22 مارچ) کی رات ان مجسموں کو توڑا گیا، اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی سامنے آیا،جس میں مجسموں کے ٹکڑوں کو کچرے کے ڈھیر میں پھینکتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے۔

Shahjahanpur

ٹوٹے ہوئے مجسمے کے آثار، فوٹو: ارینجمنٹ

منگل کی شام شاہجہاں پور پولیس نے کمپنی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 196(2) (مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے والی سرگرمی) اور دفعہ 352 (جان بوجھ کر توہین) کے تحت معاملہ درج کیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش دویدی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کے چیف انجینئر نے صدر بازار تھانے میں شکایت درج کرائی۔

ایف آئی آر میں درج تفصیلات کی بنیاد پر دویدی نے خبررساں ایجنسی کو بتایا،’ ٹاؤن ہال کے شہید یادگار پر تزئین و آرائش  کا کام جاری تھا اور منصوبے کے تحت مجسموں کو نئے پلیٹ فارم پر منتقل کیا جانا تھا۔ یہ کام ’انفراٹیک‘ نامی کمپنی کو سونپا گیا تھا۔

دویدی نے بتایا کہ کمپنی کو مجسموں کے پیچھے کا کام سونپا گیا تھا، لیکن اس نے متعلقہ محکمہ کو اطلاع دیے بغیر اتوار کی رات مجسمے ہٹا دیے۔

کارپوریشن کے ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا، سڑک کی تعمیر اور تزئین کاری کے لیے ذمہ داری ٹھیکیدار نے یہ کارروائی کی۔ مجسمے ہٹانے کے بعد ان کے ٹکڑوں کو مبینہ طور پر کچرے کے مقام پر پھینک دیا گیا اور وہاں لگی تختیاں بھی بلڈوزر سے ہٹا دی گئیں۔

مجاہدین آزادی رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ کو برطانوی حکومت نے 19 دسمبر 1927 کو پھانسی دی تھی۔ ان پر اگست 1925 میں لکھنؤ کے قریب کاکوری میں سرکاری خزانہ لے جانے والی ٹرین لوٹنے کا الزام تھا۔

منصوبہ بند کارروائی

مقامی تنظیم شہید اسمارک سمیتی کے عہدیدار سدھیر ودیارتھی نےدی وائر کو بتایا کہ مجسموں کو توڑنا ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے، اور ایک کمپنی پر الزام ڈال کر انتظامیہ معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا،’ یہ مجسمے 1972 میں نصب کیے گئے تھے اور اب ایسا لگتا ہے کہ تزئین کاری کے نام پر ان روایات کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور اب اس معاملے پر ضلع مجسٹریٹ اور میونسپل کمشنر یا میئر لیپا پوتی کررہے ہیں۔’

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ منصوبہ بند نہیں تھا تو رات کے اندھیرے میں 12 سے 3 بجے کے درمیان مجسمے کیوں ہٹائے گئے؟

ودیارتھی کہتے ہیں،’انتظامیہ کو اس واقعے کے خلاف اتنی مزاحمت کا اندازہ نہیں تھا۔ اب جب یہ ہوا ہے تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ٹھیکیدار نے توڑ دیا۔ تو کیا ٹھیکیدار اپنے آپ بلڈوزر لے جا کر توڑ دے گا؟’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجسموں کو تباہ کرنے کے بعد ان کی بحالی کے لیے جو بیس بنائے جا رہے ہیں وہ ان کے اصل مقام سے پیچھے ہٹاکر بنائے جا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں،’ان مجسموں کے پیچھے تقریباً 10 فٹ کے فاصلے پر بنیادیں بنائی جا رہی ہیں، جہاں انہیں رکھا جائے گا۔’

سیاسی ردعمل

سماجوادی پارٹی نے اس واقعے کو ’شہیدوں کی توہین‘ قرار دیا، جبکہ مقامی کانگریس نے منگل کو احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس واقعہ پر اکھلیش یادو نے کہا کہ تزئین کاری کبھی بھی شہیدوں کے احترام سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی، انہوں نے سوشل میڈیا پر اسے ’بیمار ذہنیت‘ کی علامت قرار دیا۔

اتر پردیش کانگریس کے صدر اجئے  رائے نے بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو کانگریس کے کارکن سڑکوں پر اتریں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ’ بی جے پی حکومت کے میونسپل ادارے نے پنڈت رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور ٹھاکر روشن سنگھ جیسے عظیم شہیدوں  کے مجسموں پر بلڈوزر چلا دیا۔ یہ صرف مجسمے کی توہین نہیں، بلکہ ملک کی آزادی کے لیے جان دینے والے ہر مجاہد اور 145 کروڑ ہندوستانیوں کے جذبات پر چوٹ ہے۔ یوگی سرکاری فوراً ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرے۔’

سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر تنویر خان نے الزام لگایا کہ یہ کارروائی ان کے نام کی تختی کو ہٹانے کے لیے کی گئی، جو میونسپل کونسل کے صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں نصب کی گئی تھی۔ انہوں نے اسے ‘شہیدوں کی توہین’ قرار دیا اور انتظامیہ پر من مانی کا الزام لگایا۔

منگل کو مقامی کانگریس قائدین اور سینکڑوں کارکنوں نے کلکٹریٹ پر احتجاج کیا۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر رجنیش گپتا نے کہا کہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ‘اشفاق اللہ خان کے مجسمے کی باقیات کو باعزت تدفین کے لیے حوالے کیا جائے، جبکہ روشن سنگھ اور رام پرساد بسمل کے مجسموں کی باقیات کو پورے احترام کے ساتھ گنگا میں بہایا جائے۔’

ایک مقامی ہندو تنظیم کے رہنما راجیش اوستھی نے اپنے حامیوں کے ساتھ شہر کے ایک چوراہے پر احتجاج کیا اورمیونسپل اہلکاروں کے پتلے جلائے۔

سی ایم یوگی کے احکامات

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، وزیراعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمپنی کو فوری طور پر بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرنے کا بھی حکم دیا۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ تباہ شدہ مجسمے کو بحال کیا جائے اور بغیر کسی تاخیر کے باعزت طریقے سے دوبارہ نصب کیا جائے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ