ایران پر زمینی حملہ ہوا تو امریکا سے لڑیں گے ۔ چیچن فوج کا اعلان

IMG 20260401 WA1477


رمضان قدیروف کے وفادار دستے ایران میں تعیناتی کے لیے تیار، جنگ کو "جہاد” قرار دے دیا
چیچنیا کے سربراہ رمضان قدیروف کے وفادار فوجی دستوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر زمینی فوجی حملہ کرتا ہے تو وہ ایرانی افواج کے ساتھ مل کر امریکی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق، قدیروف کی ذاتی فوجی یونٹیں جنہیں اخمت فورسز (Akhmat Forces) کہا جاتا ہے، ایران میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیاریاں شروع کر چکی ہیں۔ ان دستوں کے ترجمان نے موجودہ تنازع کو "مذہبی جنگ” اور "حق و باطل کا معرکہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لڑائی جہاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان فوجی اپنے دینی فریضے کے طور پر اس میدان میں اتریں گے۔
چیچن فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اپتی علاؤدینوف نے بھی ٹیلی گرام پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو ہر ممکن مدد دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر روسی قیادت اجازت دے تو وہ آج بھی ایران جا کر لڑ سکتے ہیں۔ یہ دستے روس کی قومی گارڈ کا حصہ ہیں اور یوکرین جنگ میں بھی فعال کردار ادا کر چکے ہیں۔
تاہم، ابھی تک رمضان قدیروف، کریملن یا روسی فوج کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق یا تعیناتی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ یہ بیانات ایرانی میڈیا اور چیچن کمانڈرز کے سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی ہیں، جو موجودہ امریکا-ایران کشیدگی کے تناظر میں اشاراتی پیغام سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فضائی اور بحری کارروائیاں جاری ہیں، اور ایران کسی ممکنہ زمینی لڑائی کے لیے تیاریوں کا دعویٰ کر رہا ہے۔
نوٹ: یہ رپورٹس زیادہ تر ایرانی سرکاری ذرائع سے آ رہی ہیں، لہٰذا ان کی تصدیق آزاد ذرائع سے ضروری ہے۔

متعلقہ پوسٹ