تحریر علی شیر
تاریخِ انسانی میں چند تہذیبیں ایسی ہیں جو وقت کے طوفانوں کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ جی ہاں اور ایرانی تہذیب انہی میں سے ایک نمایاں مثال ہے۔
ہزاروں برس پر محیط اس تہذیب نے نہ صرف سلطنتوں کے عروج و زوال دیکھے بلکہ بیرونی حملوں، مذہبی تبدیلیوں اور سیاسی انقلابات کا بھی سامنا کیا، مگر اس کے باوجود یہ تہذیب آج
بھی ذندہ اور متحرک ہے۔
ایرانی تہذیب کی بنیاد قدیم آریائی اقوام نے رکھی، جس کا باقاعدہ عروج سائرس دی گریٹ کے دور میں نظر آتا ہے۔ ہخامنشی سلطنت نے نہ صرف ایک وسیع جغرافیہ پر حکمرانی کی بلکہ مذہبی رواداری اور انتظامی نظم کی مثالیں بھی قائم کیں۔ Persepolis جیسے آج بھی ایرانی شہر اس تہذیب کی شان و شوکت کے گواہ ہیں۔
تاہم تاریخ کا پہیہ یہاں رکا نہیں۔ سکندر اعظم کی یلغار نے اس عظیم سلطنت کو زمین بوس کر دیا۔ بظاہر یہ ایک تہذیبی خاتمہ معلوم ہوتا تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ایرانی تہذیب نے یونانی اثرات کو اپنے اندر جذب کر کے ایک نئی شکل اختیار کر لی اور یہی اس تہذیب کی سب سے بڑی طاقت ہے خود کو بدلنے اور باقی رہنے کی صلاحیت رکھتی ہےـ
ساسانی دور میں ایرانی تہذیب نے ایک بار پھر ثقافتی اور علمی عروج حاصل کیا فنِ تعمیر، طب اور فلسفہ میں ترقی نے اسے ایک مضبوط تہذیبی شناخت دی تاریخ کا پہیہ ہوں ہی گھومتا رہا گھومتے گھومتے 651 عیسوی میں عرب فتوحات نے ایک اور بڑی تبدیلی کو جنم دیا اور ایرانی تہذیب نے اسلام قبول کیا، مگر اپنی زبان، ثقافت اور فکری روایت کو ختم نہیں ہونے دیا۔ قبول اسلام کے بعد ابن سینا اور رومی جیسے مفکرین نے نہ صرف ایران بلکہ اسلامی دنیا کو نئی جہت دی، مگر ان کی جڑیں ایرانی تہذیب
میں ہی پیوست رہیں۔
اسلامی اقدار کے زیر سایہ ایرانی تہذیب کا سفر رواں دواں رہا اور پھر صفوی دور آیا
صفوی دور کے سربراہ شاہ اسماعیل نے شیعہ اسلام کو ریاستی مذہب قرار دے کر ایران کی مذہبی شناخت کو ایک نیا رخ دیا۔ یہی شناخت آج کے ایران کی بنیاد ہے۔ بعد ازاں جدید دور میں انقلاب ایران 1979 نے سیاسی نظام کو بدل دیا، مگر تہذیبی تسلسل برقرار رہا۔
ایرانی تہذیب کی اس تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہاں اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنگیں واقعی کسی تہذیب کو مٹا سکتی ہیں؟
تاریخِ ایران اس سوال کا واضح جواب دیتی ہے: نہیں۔
جنگیں سلطنتوں کو ختم کر سکتی ہیں، شہر تباہ کر سکتی ہیں، مگر تہذیب جو زبان، ادب، ثقافت اور اجتماعی شعور کا مجموعہ ہوتی ہے اسے مکمل طور پر مٹانا ممکن نہیں ہوتا۔
ایران نے سکندر اعظم کی یلغار دیکھی، عرب فتوحات کا سامنا کیا، منگولوں کی تباہ کاریوں کو برداشت کیا، مگر ہر بار یہ تہذیب ایک نئی صورت میں ابھری۔
فارسی زبان آج بھی زندہ ہے، ایرانی ادب آج بھی پڑھا جاتا ہے، اور ثقافتی روایات آج بھی قائم ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تہذیبیں تلوار سے نہیں بلکہ فکر، علم اور روایت سے زندہ رہتی ہیں۔
آج جب دنیا ایک بار پھر تصادم اور جنگوں کی طرف بڑھ رہی ہے، ایرانی تہذیب ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے:
قوموں کی اصل طاقت ان کی فوجی قوت میں نہیں بلکہ ان کی ثقافتی اور فکری بنیاد میں ہوتی ہے۔
اگر یہ بنیاد مضبوط ہو تو کوئی بھی جنگ، کوئی بھی طوفان، کسی بھی تہذیب کو مکمل طور پر ختم نہیں کر

