کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا نے جنگ، ظلم اور مذہب کے غلط استعمال کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے دیا
روم/یاونڈے (فارزانہ چوہدری) — ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو XIV نے امریکی جنگی پالیسیوں، ایران کے خلاف جاری جنگ اور عالمی طاقتوں کے "نیو کالونیل” رویوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ "دنیا ظالموں کے قبضے میں ہے”۔ انہوں نے جنگ، ظلم اور مذہب کے سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال کو انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
کیمرون کے دارالحکومت یاونڈے میں خطاب کرتے ہوئے پوپ نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کی نمائش، خود کو خدا سمجھنے کی وہم اور پیسے کی پرستش نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "جنگ کی دیوانگی” فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔
پوپ لیو نے کہا:
"دنیا ظالموں کے قبضے میں ہے۔ ہم نے طاقت کے نشے میں مبتلا رہنماؤں کو دیکھا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور تہذیبوں کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ مذہب کو جنگ اور جبر کے آلے کے طور پر استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں۔”
انہوں نے سٹ پیٹرز باسیلیکا میں ایک خصوصی دعائی ویجیل کے دوران بھی "خود کی بت پرستی”، "پیسے کی پرستش” اور "طاقت کے مظاہرے” کی سخت مذمت کی اور کہا کہ "جنگ کی دیوانگی بند ہو، زمین ان لوگوں کے حوالے کی جائے جو زندگی کو تخلیق، حفاظت اور محبت کرنا جانتے ہیں”۔
پوپ لیو XIV (جو امریکی نژاد پہلے پوپ ہیں) نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور علاقائی فوجی کارروائیوں کو "ناقابل قبول” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب کا اصل پیغام امن، عدل اور انسانی وقار کا تحفظ ہے، نہ کہ جنگ اور جبر۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ کی ان تنقیدوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں "خارجہ پالیسی کے لیے کمزور” اور "جرائم کے معاملے میں کمزور” قرار دیا تھا۔ تاہم پوپ نے واضح کیا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ سے ڈرتے نہیں اور جنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے امن، مکالمے اور کثیر الجہتی تعلقات پر زور دیا۔

