تہران — ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تمام ممالک کے تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھول دی جائے گی۔
یہ اعلان اسرائیل اور امریکا کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کی ایک اہم شرط آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولنا تھی۔
آبنائے ہرمز، جس سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی فراہمی گزرتی ہے، حالیہ مہینوں میں شدید کشیدگی کا مرکز رہی تھی۔ اس کے کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت کو نمایاں سکون ملنے کی توقع ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی پوسٹ مختصر مگر انتہائی اہم تھی، جس میں کہا گیا کہ ایران تمام ممالک کے تجارتی جہازوں کو بلا امتیاز آبنائے سے گزرنے کی اجازت دے گا۔
بین الاقوامی مبصرین اور بحری اداروں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی نازک ہے اور تمام فریق اس پر عملدرآمد کو قریب سے دیکھیں گے۔

