بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں منعقدہ سرکاری عشائیے میں چینی صدر شی جن پنگ نے تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور چین کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مل کر تعلقات کو نئی سمت دینے کے لیے تیار ہیں۔
شی جن پنگ نے 55 سال قبل ہینری کسنجر کے تاریخی دورۂ چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اس دورے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی راہ دکھائی، آج کا دورہ بھی اسی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "چین کی تجدید اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔”
چینی صدر نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں اور تعاون سے دونوں کو فائدہ جبکہ محاذ آرائی سے صرف نقصان ہوتا ہے۔ بین الاقوامی برادری دونوں ممالک سے بہت زیادہ توقعات وابستہ رکھتی ہے۔
ٹرمپ کا جواب اور دعوت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے پرتپاک استقبال پر شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آج کا دن امریکا اور چین کے تعلقات کے لیے انتہائی شاندار ہے۔” انہوں نے چینی صدر کے ساتھ ملاقات کو انتہائی مثبت اور تعمیری قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط تر ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ اور خاتونِ اول کو 24 ستمبر کو امریکا کے دورے کی باقاعدہ دعوت دیتے ہیں۔

