گوجرانوالہ میں چڑیا گھر قائم کرنے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے پیش رفت کی خبر سنی تو کئی سال سے سرد خانے میں پڑی یونیورسٹی کا”زخم“ جیسے تازہ ہو گیا اور شہریوں کی جانب سے یونیورسٹی مکمل کرنے کا مطالبہ ایک بار پھر شدت پکڑ گیا، خوش آئند امر یہ کہ سول سوسائٹی اس اہم معاملے پر یک زبان ہے مضمرات اپنی جگہ مگرسوشل میڈیا کا ثمر ہے کہ جائز مطالبات پرلوگوں کو خاموش کرانا اب ناممکن ہو چکا ہے، تب ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے وضاحت دی کہ چڑیا گھر کے لئے کہیں سے کوئی فنڈز نہیں آئے اس کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی تجویز پر کام ہو رہا ہے سوال یہ ہے کہ اس قسم کی تجویز یونیورسٹی کے لئے قابل عمل کیوں نہیں؟اگر فنڈز نہیں آرہے تو وہ کون لائے گا؟گوجرانوالہ کے بیٹے بیٹیوں کے لئے سرکاری یونیورسٹی حسرت چکی ہے آس پاس کے اضلاع میں سرکاری یونیورسٹیز کی موجودگی چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ کسی نے گوجرانوالہ کی نمائندگی کا حق ادا کرنے میں سنگین کوتاہی کی ہے آدھی صدی حکومتوں کا مزہ لوٹنے والے مقامی سیاستدان اپنے کتنے ہی کارنامے کیوں نہ گنوائیں ہمارے بچے بچییوں کو اعلیٰ تعلیم سے محرومی کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے،البتہ ان میں سے بعض سیاستدان اور گوجرانوالہ چیمبر کی شخصیات اس حوالے سے آواز ضرور اٹھاتے رہیں مدتوں بعد خدا خدا کر کے 2023میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ایمن آباد میں 961کنال اراضی مختص کر کے ایمن آباد اسکا سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے 5299ملین روپے لاگت تخمینہ مقرر کیا گیا اور میڈیا ٹاک میں محسن نقوی نے منصوبے کو آٹھ ماہ میں مکمل کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا، ایک ارب روپے جاری بھی ہوئے جن سے یوٹیلیٹز کی فراہمی، باؤنڈری وال، زمین کی ہمواری، بنیادی انفراسٹرکچر روڈز کا کام شروع کیا گیا جبکہ مرحلہ وار اکیڈمک بلاکس، مرکزی لائیبریری، اور ہاسٹلزاور کیمپس کی عمارتیں بھی بنائی جانی تھیں لیکن اس کے بعد مسلسل خاموش اور فنڈز کی عدم دستیابی نے سارا منصوبہ کھٹائی میں ڈال کے رکھ دیامحسن نقوی اپنے نئے جھمیلوں میں یونیورسٹی کو بھول گئے جبکہ منصوبوں کے خیالی پلاؤ بنانے والوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ایک کے بعد ایک منصوبے میں یوں الجھایا کہ یونیورسٹی آف گوجرانوالہ جیسے کسی کو یاد ہی نہ رہی سرمایہ دارانہ نظام کے منافع خوروں نے پرائیویٹ سکولوں کے بعد کالجز اور پھر یونیورسٹیز کی شکل میں تجوریاں بھرنے کی فیکٹریاں لگاکے تعلیمی کاروبار شروع کر لئے لیکن غریبوں کے بچے جو بھاری فیسیں نہ دے سکتے تھے انکے لئے اعلیٰ تعلیم حسرت بن کر رہ گئی، پنجاب یونیورسٹی کا گوجرانوالہ کیمپس گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے قائم ہے جہاں موجودہ دور میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس، ماس کمیونیکیشن، فیشن ڈیزائیننگ کی تعلیم کا کوئی تصور موجود نہیں گوجرانوالہ میں پچھلے سالوں میں کئی منصوبے شروع ہوئے جن میں چن دا قلعہ فلائی اوور مکمل بھی ہوا، سگنل فری کوریڈور اپنے تخمینے اور لاگت سمیت کہیں دفن ہو گیا، پھر 10ارب کا کارڈیالوجی اسپتال منظور ہوا اسکے بعد تو کمال ہی ہوگیا، 62ارب کی میٹرو بس کا منصوبہ شروع کرکے پورا جی ٹی روڈ دیکھتے ہی دیکھتے ادھیڑ کر رکھ دیا گیا پھر منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی اور ایک کی جگہ دو سرنگیں کھودنے کی خبر آگئی مین جی ٹی روڈ کی ٹریفک ان سروس روڈز پر موڑ دی گئی جن کی اپنی حالت انتہائی قابل رحم تھی، شہر میں ٹریفک کابحران کھڑا ہو گیا کیونکہ سارا کچھ جی ٹی روڈ کی چیر پھاڑ کے بعد کیا جا رہا تھا اب بھی شہرمیں کسی کو معلوم نہیں کہ چن دا قلعہ اور اندرون شہر ٹنل بنانے کے لئے کون کون سی املاک اور کس کس کے کاروبار کو بھینٹ چڑھایا جائے گا یہ بھی سن رہے ہیں کہ اب میٹرو کا منصوبہ 100ارب سے زائد میں مکمل ہو سکے گا یہاں پیسے کی فراوانی نظر آتی ہے ادھر تجاوزات ہٹانے کی دھماچوکڑی کے بعد بازار بند کرانے کی واہیات ایکسرسائز نے جہاں پیرا فورس کا مختصر عرصے میں ایک مکمل غیر مہذب فورس ہونے کا تاثر عوام کے ذہنوں میں پختہ کیا ہے وہیں برسراقتدار مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک(اگر کوئی باقی ہے) تو اسے بھی بری طرح نقصان پہنچایا ہے، ایک کے بعد ایک اعلان کر دہ منصوبوں کے انبار میں ایمن آباد کے جنگل میں زیر تعمیر یونیورسٹی آف گوجرانوالہ بری طرح نظر انداز ہوتی چلی گئی جہاں ٹھیکیدار کے بھاگ جانے کی خبریں بھی آئیں نہی دنوں راقم الحروف نے خود یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کی سائٹ پر جا کر صورت حال دیکھنے کا فیصلہ کیا جو شہر سے دور جی ٹی روڈ سے کئی کلومیٹر فاصلے پر زیر تعمیر ہے اگر اسے جنگل میں منگل کی عملی تصویر کہیں تو بے جا نہ ہوکیونکہ شہر سے طویل سفر کر کے یہاں ہر روز پہنچنا بچے بچیوں کے لئے ایک مستقل سر درد رہے گا، زنگ آلود سریا اور میٹریل پڑا تھا، لیبر کی تعداد بھی کم نظر آئی وہاں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ٹھیکیدار جو مفرور ہوچکا تھا اب واپس آچکا ہے، یونورسٹی کی افادیت اور ضرورت پر شاید کسی قسم کے دلائل دینے کی ضرورت نہیں البتہ حکمرانوں کی ترجیحات کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے کہ آئے روز نئے نئے منصوبے بنانے والوں نے 2023سے زیر تعمیر یونیورسٹی کو یکسر فراموش کر دیا انہیں احساس نہیں کہ ہر سال ہماری ہزاروں انتہائی قابل بیٹیاں جنہیں دوسرے شہروں میں جا کر پڑھنے کی اجازت نہیں ملتی گھر بیٹھ جاتی ہیں پرائیویٹ تعلیم افورڈ نہ کر پانے والے بچے بچیاں ذہین اورباصلاحیت ہونے کے باوجود اس محرومی کی نذر ہو جاتے ہیں اس پر آئے روز نئے نئے عجیب و غریب منصوبوں کا اعلان زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے اگر آپ چڑیا گھر کو یونیورسٹی سے زیادہ اہمیت دیں گے تو پھر آپکی ذہنی پستی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، ایک طرف آپکے پاس بیوٹیفکیشن، آسانی اور ترقی کے نام پر سڑکیں اکھاڑ اکھاڑ کر دوبارہ بنانے کے لئے کئی سو ارب روپے تو موجود ہیں لیکن قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری کے لئے چند ارب روپے کیوں نہیں ہیں، وزیر اعلیٰ مریم نواز اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کا منصوبہ جو پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے اسے جلد سے جلد مکمل کرا کے گوجرانوالہ کے بیٹے اور بیٹیوں کو انکا حق دلوائیں کوئی شک نہیں کہ یہی بچے ہمارا مستقبل اور قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں جنہیں مناسب مواقع مل جائیں تو انہیں اقوام عالم میں اپنا مقام پیدا کر نے سے کوئی نہیں رو ک سکے گا

