کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے غزہ فلوٹیلا پر اسرائیلی سلوک کی شدید مذمت کی، سفیر طلب

images 9 16


اوٹاوا،— کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے غزہ جانے والے انسانی امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی فورسز کے سلوک کی سخت مذمت کی ہے اور اسے "ناقابل قبول” اور "abhorrent” قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیر اعظم کارنی نے اسرائیلی نیشنل سیکیورٹی وزیر اتامار بِن گویر کی شیئر کردہ فوٹیج کی مذمت کی، جس میں نظربند کارکنوں کو ہاتھ پیچھے باندھ کر گھٹنوں کے بل بٹھائے گئے دکھایا گیا اور ان کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک کیا گیا۔ کارنی نے کہا کہ "فلوٹیلا پر سوار شہریوں کے ساتھ کیا جانے والا ناقابل برداشت سلوک قبول نہیں کیا جا سکتا۔” انہوں نے زور دیا کہ "شہریوں کے تحفظ اور انسانی وقار کا احترام ہر جگہ اور ہمیشہ قائم رکھا جانا چاہیے۔”
کینیڈا نے اس معاملے پر اسرائیلی سفیر کو اوٹاوا طلب کر لیا ہے۔ خارجہ امور کی وزیر انیتا انند نے کہا کہ کینیڈین شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے یقین دہانیاں طلب کی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فلوٹیلا میں تقریباً 12 کینیڈین شہری موجود تھے جنہیں قبرص کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں روکنے کے بعد حراست میں لیا گیا
اس واقعے پر فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز سمیت کئی ممالک نے بھی اسرائیلی سفیروں کو طلب کیا ہے۔ زیادہ تر کارکنوں کو اسرائیل سے ڈیپورٹ کر دیا گیا ہے۔
یہ اسرائیل کے روایتی اتحادی کینیڈا کی طرف سے غزہ کی انسانی صورتحال کے تناظر میں ایک غیر معمولی سخت ردعمل ہے۔

متعلقہ پوسٹ