تل ابیب — اسرائیل کے بین گوریون ہوائی اڈے پر امریکی فوجی طیاروں کی موجودگی کے باعث اسرائیلی ایئرپورٹ اتھارٹی کو گزشتہ دو ماہ میں 248 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل شیرون کیدمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو نقصانات اربوں ڈالرز تک پہنچ سکتے ہیں۔
کیدمی کے مطابق بین گوریون ایئرپورٹ اس وقت محض ایک تہائی صلاحیت پر کام کر رہا ہے کیونکہ درجنوں امریکی ٹینکر طیاروں نے ایئرپورٹ کا 70 فیصد حصہ گھیر رکھا ہے۔ رواں سال 18 ملین مسافروں کی توقع تھی تاہم اب یہ تعداد 15 ملین سے تجاوز نہ کر سکے گی، جس سے 30 لاکھ تک مسافر متاثر ہو سکتے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بین گوریون عملاً ایک فوجی ہوائی اڈے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا تھا جس کے بعد فی الوقت عارضی جنگ بندی نافذ ہے اور مذاکرات جاری ہیں، تاہم ناکامی کی صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔

