گرین کارڈ پالیسی میں تبدیلی، ٹرمپ انتظامیہ کی یقین دہانی لیکن ماہرین شکوک میں


واشنگٹن — ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ گرین کارڈ پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے تارکین وطن اور ملازمین کو یقین دلایا ہے کہ اس سے اہل درخواست دہندگان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، تاہم قانونی ماہرین نے اس دعوے پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کی نئی ہدایت پر شدید تشویش پائی گئی کہ لاکھوں گرین کارڈ درخواست دہندگان کو امریکہ چھوڑ کر بیرون ملک امریکی قونصل خانوں میں اپنے معاملات مکمل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
نئی ہدایت میں ”اسٹیٹس کی ایڈجسٹمنٹ” کے عمل کو محدود کر دیا گیا ہے جو رشتہ داروں یا آجروں کی طرف سے اسپانسر کیے گئے بعض تارکین وطن کو مستقل رہائش کے حصول کے دوران امریکہ میں رہنے کی اجازت دیتا تھا۔ امیگریشن وکلاء، کاروباری گروپوں اور تارکین وطن کے حامیوں کی شدید تنقید کے بعد ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے کہا کہ یہ ہدایت محض طویل عرصے سے رائج قانون کا اعادہ ہے اور کوئی اہل درخواست دہندہ اس سے متاثر نہیں ہوگا۔
تاہم USCIS کے سابق چیف کونسل لنڈن میل میڈ نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سے درخواست دہندگان اور وکلاء پر اضافی بوجھ پڑے گا کیونکہ امریکہ کے اندر عمل مکمل کرنے کے جواز کے لیے مزید ثبوت فراہم کرنے ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ”بنیادی طور پر یہ پالیسی قانونی امیگریشن کو سست کر دے گی۔”
یہ پالیسی تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف وسیع تر کریک ڈاؤن اور ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کے لیے قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کی مجموعی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ