ایرانیوں کے حقوق کی ضمانت تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں: قالیباف


تہران / واشنگٹن — ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے اور آبنائے ہرمز کے تنازع پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ جب تک قوم کے حقوق محفوظ نہیں ہو جاتے، امریکہ سے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے۔
ایرانی نیوز ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق قالیباف نے کہا کہ ”دشمن کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، صرف عملی نتائج اہم ہیں۔” دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں اور فوجی کارروائی بدستور ایک آپشن کے طور پر موجود ہے۔
Axios کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے معاہدے کے مسودے میں ترامیم کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ٹھکانے لگانے سے متعلق شقوں میں مزید وضاحت مانگی گئی ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ادائیگی کی صورت میں بھی ایران سے محفوظ گزرگاہ کی خدمات لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سنگاپور میں ایک دفاعی اجلاس میں ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ادھر ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایک امریکی-اسرائیلی ڈرون مار گرایا ہے۔
لبنان محاذ پر بھی صورتحال نازک ہے جہاں ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کسی بڑے امریکہ-ایران معاہدے کی لازمی شرط ہونی چاہیے، جبکہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ