تہران — ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ٹرمپ انتظامیہ کا مسلسل بدلتا ہوا اور باہمی متضاد رویہ ہے۔ سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "مختلف امریکی حکام کے الگ الگ اور متضاد بیانات سے پورا مذاکراتی عمل انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔”
بقائی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغام رسانی ابھی بھی جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں ایران کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ امریکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ایران کے پرامن جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کرے اور غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے واگزار کیے جائیں۔
کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایران نے امریکہ پر اپریل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جبکہ امریکی فوج نے ہفتے کی رات خلیج میں دو ایرانی ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی۔ بقائی نے خبردار کیا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا "پوری طاقت سے جواب دینے کے لیے تیار” ہیں۔

