تحریر آصف محمود
9 مئی سے 9 جون تک ایک جیسی واردات ہے ، ایک جیسا طریقہ واردات ۔
ایک جیسا اشتعال انگیز بیانیہ ، آگ لگا دیں گے ، جلا کر راکھ کر دیں گے ، لما پا دیاں گے ، پھٹے بھن دیاں گے ، اور پھر جب فتنہ شروع ہو جائے تو معصوم بن جاتے ہین کہ ہم بہو بیٹیاں کیا جانیں یہ بلوائی کون تھے ۔
یہی کام 9 مئی والوں نے کیا کہ ہم نے جو فساد کیا وہ ہم تو نہیں تھے، اور یہی کام اب 9 جون والے کر رہے ہیں کہ پولیس اہلکاروں پر گولی چلانے والے بہم تو نہ تھے یہ تو رینجرز نے چلائی ہے۔ ۔
ایک جیسے بد زبانی ، ایک جیسا گالم گلوچ۔
ان کے نشانے پر بھی ریاست اور اس کے ادارے ، ان کے سینگوں پر بھی یہی۔
ان سے بھی جس نے اختلاف کیا ، وہ گندی زبانوں سے ان پر پل پڑے ، ان سے بھی جس نے اختلاف کیا انہوں نے اسے گندی اور غلیظ گالیاں دیں ۔
انہوں نے بھی اوورسیز سے رجز پڑھوا کر آگ لگائی ان کا جہنم بھی اوورسیز نے بھڑکا رکھا ہے ۔
جھوٹے پروپیگنڈے اور جنون میں وہ بھی بے مثال اور جھوٹ اور وحشت جنون میں ان کا بھی کوئی ثانی نہیں ۔
ان کے وکیل اور عذر خواہ بھی وہی تھے جو اب ان کے ہیں ۔ ریٹنگ کے بھوکے ، پیشہ ور احتجاجیے ۔ وہی چہرے ، وہی جانے پہچانے لوگ ۔
ان کے نزدیک بھی معیار حق صرف ان کی ذات تھی باقی سب بک واس کر رہے تھے ، ان کا بھی یہی خال ہے۔
ان کے نزدک بھی ان کے سوا باقی سب لفافے اور ولن تھے ، ان کا خبط عظمت بھی اپنے سوا سب کو بکاؤ اور شیطان سمجھتا ہے۔
اس بلوائی ازم کا ساتھ نہیں دیا جا سکتا ۔ بالکل بھی نہیں"`۔

