تہران/واشنگٹن — امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی صبح دو سے تین بجے کے درمیان کویت کے علی السالم ایئر بیس اور بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر پورٹ سلمان پر مشترکہ میزائل اور ڈرون حملے کئے گئے، جن میں امریکی فوج کے آٹھ اہم فوجی انفراسٹرکچر تباہ کئے گئے۔ ایران نے اس کارروائی کو امریکہ کی جانب سے اپنے پانچ ساحلی مقامات پر حملوں کا ‘فیصلہ کن جواب’ قرار دیا اور خبردار کیا کہ مستقبل میں کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے میزائل و ڈرون ذخائر، ساحلی ریڈار تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ایران کا وجود ہی نہ رہے۔ دوسری جانب بحرین نے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا اور ۲۰۲۶ء کی قرارداد ۲۸۱۷ پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ امریکی حکام نے ابھی تک ایرانی دعوؤں کی تصدیق نہیں کی، تاہم عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

