فرانس: شدید گرمی سے جنگلات میں آتشزدگی، ۹۰۰؍ ایکڑ اراضی خاکستر، ہزاروں افراد بے گھر


فرانس میں شدید گرمی کی لہر کے باعث مختلف مقامات پر جنگلات میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی، جس نے بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ۹۰۰؍ ایکڑ سے زائد اراضی جل کر خاکستر ہو گئی۔ آگ کے باعث قریبی قصبوں اور رہائشی علاقوں سے ۳؍ ہزار مقامی افراد اور وہاں موجود سیاحوں کو ہنگامی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
خبر لکھے جانے تک فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں بھاری مشینری اور طیاروں کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فرانسیسی محکمۂ موسمیات میٹیو فرانس کے مطابق آئندہ ہفتے ملک میں گرمی کی ایک نئی لہر آنے کا امکان ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی شدت گزشتہ ماہ جون کی گرمی جیسی نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ ۲۰؍ جون سے جاری شدید گرمی کی لہر نے یورپ کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث عجائب گھروں اور تعلیمی اداروں کو قبل از وقت بند کرنا پڑا۔ عرب میڈیا کے مطابق ۱۹۱؍ ملین سے زائد افراد کو جمعہ کے روز کم از کم ۳۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد درجۂ حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔ جرمنی، جمہوریہ چیک، ہنگری، پولینڈ، سلوواکیا، سربیا، کروشیا، اٹلی، آسٹریا اور مغربی یوکرین شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔
گرمی سے ۲؍ ہزار سے زائد اموات
فرانسیسی وزیر صحت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں شدید گرمی کی لہر سے ایک ہفتے کے دوران ۲؍ ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد ۲۰۲۵؍ ہو چکی ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۲؍ سال سے زائد عمر کے افراد میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔
دیگر یورپی ممالک بھی متاثر
گزشتہ ہفتے شدید گرمی سے فرانس، بلجیم اور نیدرلینڈز میں مجموعی طور پر کم از کم ۳۷۰۰؍ اموات ہوئیں، جن میں بلجیم میں ۱۲۰۰؍ اور نیدرلینڈز میں ۴۸۰؍ ہلاکتیں شامل ہیں۔ ادھر بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق فرانس میں گرمی کی مزید ایک لہر کی پیش گوئی پر تقریباً ایک ہزار اے سی سنیچر تک پیرس کے اسپتالوں میں پہنچا دیے جائیں گے۔

متعلقہ پوسٹ