یورپی سرکاری اداروں کے اسرائیل سے ۲ء۷ ارب یورو کے معاہدوں کا انکشاف

Untitled 1 msi d 1


الجزیرہ کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ، مبینہ ظلم و ستم، نسل کشی کے الزامات اور عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات کے باوجود یورپی یونین کے رکن ممالک کے سرکاری اداروں نے اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ اربوں یورو کے معاہدے کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2022ء سے جولائی 2025ء کے دوران یورپی یونین کے سرکاری اداروں نے اسرائیلی کمپنیوں سے مجموعی طور پر 194 معاہدے کیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 2.7 ارب یورو بنتی ہے۔ الجزیرہ نے متعدد ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا کہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد ان معاہدوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ صرف اکتوبر 2023ء سے جولائی 2025ء کے دوران، یعنی جنگ شروع ہونے کے بعد، 112 معاہدے کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 1.6 ارب یورو رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپین، جرمنی، ہنگری، سویڈن، اٹلی اور بلجیم سمیت کئی یورپی ممالک کے دفاعی اداروں، پولیس فورسز، جامعات اور دیگر سرکاری محکموں نے اسرائیلی کمپنیوں سے اسلحہ، فوجی سازوسامان، سائبر سیکیورٹی نظام، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور طبی آلات سمیت مختلف مصنوعات خریدیں۔
قانونی ماہرین کے حوالے سے الجزیرہ نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کی رائے کے بعد یورپی ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل کے مبینہ غیرقانونی قبضے یا اس سے جڑے اقدامات میں کسی بھی قسم کی معاونت سے گریز کریں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان معاہدوں کو بین الاقوامی قانون کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب جرمنی نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کمپنیاں یورپی قوانین کے تحت سرکاری ٹینڈرز میں حصہ لینے کی مکمل اہل ہیں، جبکہ اسلحے کی برآمد یا دفاعی تعاون سے متعلق فیصلے ہر معاملے کی الگ الگ قانونی جانچ کے بعد کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کی معطلی کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاہم جرمنی، اٹلی اور دیگر کئی رکن ممالک اس مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ