وینزویلا کے سابق صدر مادورو منشیات اسمگلنگ کے امریکی مقدمے میں واپس عدالت آگئے


نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) — وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو بدھ کے روز اپنے وکلاء کے ہمراہ ایک بار پھر امریکی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں توقع ہے کہ وہ اپنی حراست کو غیر قانونی قرار دینے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ۶۳ سالہ مادورو پر الزام ہے کہ انہوں نے منشیات اسمگلروں کی مدد سے ہزاروں ٹن کوکین امریکہ اسمگل کروائی۔
مادورو اور ان کی اہلیہ، ۶۹ سالہ سیلیا فلورس، جنوری کے اوائل سے بروکلین کی جیل میں قید ہیں، جب امریکی افواج نے کراکس میں ان کے گھر پر آدھی رات کو چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کیا اور نیویارک لے آئیں۔ دونوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
امریکی پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ مادورو نے وینزویلا کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی ملی بھگت سے بڑے منشیات فروشوں کی سرپرستی کی۔ اگر جیوری انہیں کوکین اسمگلنگ کی سازش میں ملوث پاتی ہے تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس کارروائی کو چھ سال قبل دائر ایک مجرمانہ مقدمے پر عمل درآمد قرار دیتی ہے، جبکہ مادورو خود کو جنگی قیدی اور اپنی گرفتاری کو اغوا کہتے ہیں۔ جنوری میں ابتدائی سماعت کے دوران انہوں نے ہسپانوی زبان میں کہا تھا: ’’میں قصوروار نہیں ہوں، میں اپنے ملک کا آئینی صدر ہوں۔‘‘
مادورو کے وکیل بیری پولاک نے کہا کہ وہ ان کی ’’فوجی اغوا‘‘ کی قانونی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ ابھی تک دونوں ملزمان نے ضمانت کی درخواست نہیں دی، اور جج ایلون ہیلرسٹین نے مقدمے کی تاریخ مقرر نہیں کی۔

متعلقہ پوسٹ