لندن — برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکہ کو برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یہ اجازت محدود پیمانے پر دی گئی ہے اور یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، اسٹارمر نے جمعہ کے روز اعلیٰ وزراء اور حکام کا اجلاس بلایا تھا جس میں رواں ماہ امریکی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد برطانوی پالیسی پر غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا، جس کے تحت بحرِ ہند میں واقع ڈیاگو گارشیا اور انگلینڈ کے گلوسسٹرشائر میں موجود آر اے ایف فیئر فورڈ کے اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے دستیاب رہیں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ طیارے ایران کے میزائل خطرے کا مقابلہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے والی تنصیبات کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
پیر کے روز وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے والے برنہم کو اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا، اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق وہ اس معاملے میں سابقہ حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے، جس کا مطلب ہے کہ جاری امریکی کارروائیوں کے دوران بعض برطانوی اڈے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسٹارمر کا یہ فیصلہ سیاسی طور پر مشکل ثابت ہوا تھا۔ انہیں ایک طرف بائیں بازو کے حلقوں کے دباؤ کا سامنا تھا کہ اڈوں کا استعمال روکا جائے، جبکہ دوسری جانب سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ کو جنگ میں کردار وسعت دینے پر زور دیا جا رہا تھا۔ ٹرمپ کے ایرانی شہری تنصیبات—جیسے پلوں اور بجلی گھروں—کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے بھی برطانوی حکام کو تشویش میں مبتلا کیا، کیونکہ ایسے حملوں کے قانونی پہلوؤں پر خدشات پائے جاتے ہیں۔
اب برنہم کو بھی بائیں بازو کی گرین پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کی جانب سے تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ دونوں جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے برطانیہ جنگی جرائم میں شریک بن سکتا ہے۔

