امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران قومی سلامتی، جرائم، دھوکہ دہی اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر ایک لاکھ ۷۵ ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر کیسز میں غیر ملکی شہریوں پر حملہ، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، چوری اور منشیات کے الزامات شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ کے مطابق ویزوں کی منسوخی کی بڑی وجوہات میں جرائم، دھوکہ دہی، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی، تشدد کی اپیلیں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات شامل ہیں۔ محکمہ نے واضح کیا کہ جن افراد نے اپنے ویزے کی شرائط توڑیں، جرائم کیے، امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کی اپیل کی، یا امیگریشن نظام کا غلط استعمال کیا، ان کے ویزے منسوخ کیے گئے۔
زیادہ تر ویزے ایسے معاملات کے بعد منسوخ ہوئے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا غیر ملکی شہریوں سے واسطہ پڑا۔ دیگر کیسز میں جنسی زیادتی، بچوں سے بدسلوکی، اغوا، انسانی اسمگلنگ، اور بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے متعدد غیر ملکی شہریوں کو خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ملک بدر کرنے کے اہل قرار دیا ہے، جن میں کیوبا اور ایران کے شہری شامل ہیں، جبکہ لاؤس اور کویت کے شہری بھی ایسے معاملات میں شامل ہیں۔ کویت سے متعلق ایک معاملے میں ایک غیر ملکی شہری نے امریکی صدر کے خلاف تشدد کی خواہش کا اظہار کیا اور امریکیوں کو اپنا دشمن قرار دیا۔
محکمہ خارجہ نے شمالی افریقہ میں ایک امریکی سفارتخانے کے حوالے سے بتایا کہ وہاں ۱۰۰ سے زائد والدین کے ویزے “برتھ ٹورسٹ” کے شبہے میں منسوخ کیے گئے، جن کا مقصد بچوں کی پیدائش کے ذریعے امریکی شہریت حاصل کروانا تھا۔ دیگر معاملات میں میڈیکیڈ فراڈ، کاروباری آمدنی میں جعلسازی اور جعلی دستاویزات کے ذریعے ویزا حاصل کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی ویزا ایک استحقاق ہے، حق نہیں، اور محکمہ ایسے غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی، تحقیقات اور ان کے ویزے منسوخ کرنے کا عمل جاری رکھے گا جو امریکی عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

