پاکستان کا افغانستان میں ضرورت مند افراد کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی امداد میں تعاون: اسحاق ڈار

397712 989064738


پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی اہم انسانی امدادی کوشش میں سہولت فراہم کرنے اور افغانستان میں ضرورت مند افراد تک امداد پہنچانے میں کردار ادا کرکے خوشی ہوئی۔

اقوام متحدہ اور پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان نے شمال مغربی سرحد پر طورخم کراسنگ کے ذریعے 700 سے زائد ٹرکوں کو انسانی امداد افغانستان لے جانے کی اجازت دی ہے۔

پاکستان نے اکتوبر 2025 سے افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر رکھی ہیں۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان متعدد مہلک جھڑپوں اور سکیورٹی کشیدگی میں اضافے کے بعد کیا گیا تھا۔

 سرحد کی بندش سے کراچی کے ذریعے افغان ٹرانزٹ کارگو کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی۔

دونوں ممالک کے درمیان مسلسل سرحدی جھڑپوں اور افغانستان کی بگڑتی معاشی صورت حال کے باعث بڑی تعداد میں افغان شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور دیگر ضروری امداد فراہم کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 724  ٹرکوں پر مشتمل انسانی امدادی سامان طورخم کے راستے افغانستان پہنچ چکا ہے، جس سے ان خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ پاکستانی حکومت اور ان تمام افراد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے انسانی امداد کی ترسیل کا راستہ کھلا رکھنے میں کردار ادا کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد یحییٰ کے بیان کے رد عمل میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اس اہم انسانی کوشش میں سہولت فراہم کرنے اور افغانستان میں ضرورت مند افراد کے لیے امداد یقینی بنانے پر انہیں خوشی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ بھی ہے۔

اسلام آباد افغانستان پر پاکستانی طالبان اور دیگر عسکری گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کرتا رہا ہے، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود انسانی امداد کی ترسیل کے لیے طورخم راستہ کھولنے سے متاثرہ افغان خاندانوں تک ضروری امداد پہنچانے میں مدد ملی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ