تہران — ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے باوجود ملک کی فضائی دفاعی نظام تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت کا 85 فیصد سے زائد حصہ محفوظ رہا۔ پاسدارانِ انقلاب کے عہدیدار نے ایرانی خبر رساں ادارے فارس کی ایک دستاویزی فلم میں بتایا کہ حملوں کے باوجود میزائل اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری اور فراہمی کی رفتار کم نہیں ہوئی بلکہ بعض شعبوں میں پیداوار میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔
عہدیدار کے مطابق ایران کے فوجی پیداواری مراکز کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم مجموعی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے محفوظ رہی اور فعال فضائی دفاعی نظام کا ذخیرہ جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام کا بڑا حصہ پاسدارانِ انقلاب کے اپنے فیکٹرائز میں تیار کیا جاتا ہے، جس نے پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوران ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار کے بعض اہداف پر حملوں کی اطلاعات آتی رہیں۔ ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا، مگر مجموعی پیداوار پر نمایاں اثر مرتب نہیں ہوا۔تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے آزادانہ طور پر تصدیق ابھی باقی ہے۔
مقامی اور بین الاقوامی مبصرین نے اس بیان کو ایران کی اندرونی حوصلہ افزائی اور دفاعی قابلیت دکھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا ہے، جبکہ مغربی حکومتیں اور بعض تجزیہ کار اس دعوے کی آزادانہ تصدیق مانگ رہے ہیں۔ اگر مزید شواہد سامنے آئیں تو اس کا اثر علاقائی سکیورٹی توازن اور خارجہ پالیسی ردِ عمل پر بھی مرتب ہو سکتا ہے۔

