غیر ملکی میڈیا سے بات کے لیے وزارت انٹیلی جنس کو بتانا ضروری، ایران میں نیا بل

397729 554854837


ایران کی پارلیمنٹ نے اتوار کو ایک بل منظور کیا ہے، جس کے تحت ایران کے مخالف تصور کیے جانے والے میڈیا سے انٹرویوز اور دیگر رابطوں کو جرم قرار دیا جائے گا۔

ایران کے اخبار شرق کے مطابق اس میں امریکی یا اسرائیلی میڈیا اور ان دونوں ممالک میں سے کسی ایک کی مالی معاونت حاصل کرنے والے میڈیا ادارے شامل ہیں۔

بل کو قانون بننے سے پہلے ابھی نگہبان شوریٰ کی منظوری درکار ہے۔ بل کے تحت ایسے میڈیا اداروں کو انٹرویو دینا یا ان کے مباحثوں میں شرکت کرنا ممنوع ہو گا جبکہ خلاف ورزی پر چھ ماہ سے دو سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

دیگر غیر ملکی میڈیا اداروں کو انٹرویو دینے کے لیے وزارت انٹیلی جنس کو اطلاع دینا ضروری ہو گی جبکہ غیر ملکی سفارت خانوں، غیر ملکی تنظیموں کے دفاتر یا دیگر غیر ایرانی اداروں سے وزارت خارجہ کو اطلاع دیے اور تحریری اجازت حاصل کیے بغیر رابطہ کرنے پر جرمانہ اور بعض سماجی حقوق سے محرومی کی سزا دی جا سکے گی۔

بل میں غیر ملکیوں کی ہدایت یا نگرانی میں کیے جانے والے معاشی جرائم کی سزاؤں کو بھی سخت کیا جائے گا۔

وزارت انٹیلی جنس کی منظوری کے بغیر غیر ملکیوں کو معلومات فراہم کرنے پر پابندی عائد کی جائے گی اور منظور شدہ فہرست میں شامل نہ ہونے والے غیر ملکی اداروں کے ساتھ سائنسی تعاون محدود کیا جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی ہدایت پر ایسی پالیسی یا قانون سازی کی تجاویز پیش کرنے پر بھی سزا مقرر کی جائے گی جو ایران کی سلامتی یا خودمختاری کو نقصان پہنچائیں۔

اس جرم میں 30 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ ایسے مقدمات کی سماعت انقلابی عدالتوں میں ہوگی۔

ایران کی جانب سے غیر ملکی اداروں کے ساتھ تعاون کو جرم قرار دینا کوئی نیا اقدام نہیں۔

اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد 2025 میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت دشمن ممالک کے ساتھ مبینہ تعاون پر سزاؤں میں اضافہ کیا گیا تھا۔

ایرانی فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو رواں ماہ اسی قانون کے تحت 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ان پر عائد الزامات میں ایسے میڈیا اداروں کو انٹرویوز دینا جنہیں ایران مخالف تصور کیا جاتا ہے اور امریکہ و اسرائیل سے منسلک تنظیموں کو تصاویر فراہم کرنا بھی شامل تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ