دفاعی اتحاد سے امن کی ضمانت تک

makkah joint defence1786903883 0


وزیراعظم شہبازشریف نے مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر پورے خطے کے دفاع اور سلامتی میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا‘‘ یہاں واشنگٹن کی حمایت کو صرف دوستانہ سفارتی جملہ سمجھنا مناسب نہیں ہوگا۔ امریکا خطے میں اپنے مفادات، اثر و رسوخ اور سلامتی کے تصورات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اس لیے علاقائی ممالک کے درمیان بننے والے ہر نئے بندوبست کو وہ اپنے وسیع تر تزویراتی زاویے سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کو ایران سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں، سعودی عرب کے ساتھ اپنی قریبی شراکت داری کو مضبوط کرنا چاہیے، ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید منظم کرنا چاہیے اور امریکا کے ساتھ بھی ایسے تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں جن میں اختلاف کے باوجود رابطہ قائم رہے۔ یہ توازن آسان نہیں، مگر موجودہ دنیا میں کامیاب خارجہ پالیسی اسی کا نام ہے۔ درحقیقت دنیا کی سیاست میں بعض فیصلے اپنے دستخطوں سے زیادہ اپنے ممکنہ نتائج کی وجہ سے اہم ہوتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی اسی نوعیت کی پیش رفت ہے۔

اس کی اہمیت محض اس امر میں نہیں کہ تین ممالک نے دفاعی تعاون کا عہد کیا ہے، بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کا روایتی سیکیورٹی نظام شدید آزمائش سے دوچار ہے، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، غزہ کا بحران کسی قابل اعتماد سیاسی حل سے محروم ہے اور عالمی طاقتیں ایک نئے تزویراتی توازن کی تلاش میں ہیں۔ ایسے ماحول میں مکہ کا معاہدہ اگر محض دفاعی شراکت داری نہ رہ کر امن اور علاقائی استحکام کی بنیاد بنتا ہے تو اس کے اثرات بہت دور تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا قریب آنا ایک فطری سفارتی پیش رفت بھی ہے اور بدلتے حالات کا تقاضا بھی۔ تینوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی، سیاسی اور دفاعی روابط پہلے سے موجود ہیں، تاہم موجودہ عالمی صورت حال نے ان تعلقات کو ایک نئے عملی تناظر میں لا کھڑا کیا ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے واضح کردیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سلامتی کا پرانا تصور، جس میں بیرونی طاقتوں کی عسکری موجودگی بنیادی ضمانت سمجھی جاتی تھی، اب پہلے جیسی کارآمد حیثیت نہیں رکھتا۔ غزہ کی جنگ، ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست کشیدگی، یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں اور خلیج میں بحری راستوں کو لاحق خطرات نے علاقائی ریاستوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے زیادہ فعال اور باہمی تعاون پر مبنی راستے تلاش کریں۔تاہم دفاعی اتحاد کی اصل طاقت اس کے اعلامیے میں نہیں بلکہ اس کے عملی نظام میں ہوتی ہے، اگر مکہ معاہدہ مشترکہ مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، انسداد دہشت گردی، سائبر دفاع، فضائی و بحری نگرانی اور بحران کے وقت فوری مشاورت کے موثر نظام تک پہنچتا ہے تو یہ خطے میں ایک قابل ذکر تزویراتی حقیقت بن سکتا ہے۔

 یہ سارا منظرنامہ ایران اور امریکا کے درمیان ختم ہوتی جنگ بندی کے باعث مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سخت بیانات، آبنائے ہرمز کے بارے میں دھمکیاں، یمن میں حوثیوں کی کارروائیاں، سعودی عرب کے لیے انتباہات اور امریکی عسکری تیاری اس امر کی علامت ہیں کہ سفارت کاری ابھی تک مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئی۔ امریکی بحریہ کے لیے ٹوماہاک کروز میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کا بڑا معاہدہ بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کے ساتھ ساتھ عسکری دباؤ کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ دوسری جانب ایران واضح کررہا ہے کہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔ ایسے ماحول میں کسی معمولی واقعے کا غیر معمولی بحران میں تبدیل ہوجانا خارج از امکان نہیں۔

آبنائے ہرمز کی حساسیت اس کشیدگی کو محض علاقائی تنازع نہیں رہنے دیتی۔ دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہونے کے باعث اس آبی گزرگاہ میں طویل بندش یا شدید خلل عالمی منڈیوں کو ہلا سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی بل کا بڑھنا اور افراط زر کی نئی لہر پاکستان جیسے ممالک کے لیے براہ راست معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد کو ہرمز کے بحران کو صرف خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی اقتصادی سلامتی کا معاملہ بھی سمجھنا چاہیے۔

 یہاں ترکیہ کی سفارتی سرگرمی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان رابطہ اور ہرمز کھولنے کی کوششوں پر گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی ریاستیں بحران کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی گنجائش استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی سمت آگے بڑھنا چاہیے، اگر مکہ معاہدہ علاقائی سلامتی کے نئے تصور کی بنیاد ہے تو اس کا پہلا امتحان یہی ہونا چاہیے کہ اس کے فریق جنگ کے بجائے مذاکرات کو مضبوط کرنے میں اپنا مشترکہ اثر کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ غزہ کی صورت حال اس امتحان کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

غزہ کے مستقبل کے بارے میں امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حماس کو غیر مسلح کرنے پر اتفاق کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، لیکن اس کے ساتھ اسرائیلی فوج کے انخلا اور فلسطینی آبادی کے مستقبل کا سوال بدستور موجود ہے، اگر حماس سے ہتھیار رکھوانے کو امن کی بنیادی شرط بنایا جاتا ہے تو اسرائیلی فوجی انخلا، فلسطینیوں کی سیاسی نمائندگی، تعمیر نو اور بے دخلی کے خدشات کے لیے بھی واضح اور قابل اعتماد ضمانتیں ضروری ہوں گی۔حماس کا یہ موقف کہ غیر مسلح ہونے سے پہلے اسرائیلی فوج کو غزہ سے نکلنا چاہیے اور اسرائیل کا یہ اصرار کہ پہلے حماس کو غیر مسلح کیا جائے، دراصل باہمی عدم اعتماد کی گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے حالات میں محض شرائط کا تبادلہ کسی پائیدار حل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ امن کے لیے مرحلہ وار عمل، غیر جانب دار نگرانی، قابل اعتماد ضمانتی نظام اور ایک واضح سیاسی مستقبل ضروری ہے۔

فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور باعزت زندگی کے سوال کو نظرانداز کرکے کوئی بھی منصوبہ دیرپا ثابت نہیں ہوسکتا۔ سعودی عرب کی سفارتی و معاشی قوت، ترکیہ کی سیاسی و عسکری اثر انگیزی اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو امن، ثالثی اور بحران سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی شراکت داری ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔پاکستان کو اس موقع پر واضح قومی مفاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ امریکا سے تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ شراکت، ترکیہ کے ساتھ بڑھتا تعاون اور ایران کے ساتھ جغرافیائی و تاریخی قربت، یہ سب اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان میں سے کسی ایک تعلق کو باقی سب پر فوقیت دے کر خارجہ پالیسی کو یک رخی بنانا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بہتر راستہ کثیر جہتی سفارت کاری ہے، جس میں دوستوں کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہوں اور اختلاف رکھنے والوں سے مکالمے کی گنجائش بھی باقی رہے۔

 وزیراعظم کی جانب سے جنوبی ایشیا میں جوہری تباہی روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہنا ایک وسیع اصول کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ جنگ جیتنے سے زیادہ اہم جنگ کو روکنا ہے۔ موجودہ دنیا میں میزائلوں، ڈرونز، سائبر حملوں اور جدید بحری قوت نے ایک علاقائی تنازع کو بہت کم وقت میں عالمی بحران میں بدلنے کی صلاحیت پیدا کردی ہے۔ اس لیے حقیقی طاقت صرف اسلحے کے ذخیرے کا نام نہیں، بحران کے لمحے میں عقل، تحمل اور مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کی صلاحیت بھی ریاستی طاقت کا اہم پیمانہ ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان دفاع کو سفارت کاری، طاقت کو ذمے داری اور شراکت داری کو علاقائی استحکام کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں تو یہ معاہدہ محض ایک عسکری دستاویز نہیں رہے گا بلکہ بدلتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی امکان کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کی موجودہ جنگی کشیدگی کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ دونوں جانب عسکری طاقت کے مظاہرے کے ساتھ سیاسی راستہ سکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے مزید عسکری تیاری اور تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز سمیت مختلف محاذوں پر سخت ردعمل کی دھمکی کسی بھی لمحے بحران کو وسیع تر تصادم میں بدل سکتی ہے۔ اس جنگ کا دائرہ اگر خلیج سے آگے پھیلا تو اس کے اثرات صرف متحارب فریقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر ممالک بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے جغرافیائی تعلق اور سعودی عرب کے ساتھ قریبی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال ہے، خطے میں امن پاکستان کی معاشی سلامتی کا بھی بنیادی تقاضا ہے۔

 مکہ کا معاہدہ پاکستان کو ایک ایسا موقع فراہم کرتا ہے جس میں وہ صرف دفاعی شراکت دار نہیں بلکہ علاقائی امن کا فعال کردار بن سکتا ہے، اگر اس موقع کو بصیرت سے استعمال کیا گیا تو پاکستان جنوبی ایشیا، وسط ایشیا، بحرہند اور مشرق وسطیٰ کا میجر پلیئر بن سکتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ