عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف درخواست عدالت نے اعتراضات لگا کر واپس کر دی

361356 1035158749


سپریم کورٹ نے حکومت پاکستان کی طرف سے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کو علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے حکم پر دائر درخواست اعتراضات لگا کر واپس کر دی ہے۔

حکومت کی طرف سے بدھ کو نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض عائد کیے گئے۔

نظرثانی درخواست کے ساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ فیصلہ ان کے اہلِ خانہ اور حامیوں کے طویل عرصے سے جاری مطالبے کے بعد آیا، جو ان کی بینائی اور مجموعی صحت کے بارے میں مسلسل خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نظر ثانی کی درخواست چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ ’یہ حکم عدالت کے اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے، لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے۔‘

عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عدالتی حکم نامے کے باوجود پی ٹی آئی اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ ’درخواست کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے۔ قیدیوں کو جیل میں جو بھی سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہیں، ہوتی رہیں گی۔‘

73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں۔ رواں برس انہیں دائیں آنکھ میں ریٹینا سے متعلق ایک بیماری تشخیص ہوئی تھی، جس کے بارے میں ان کے وکلا نے خبردار کیا تھا کہ اس سے بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

ان کی جماعت پی ٹی آئی مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے کروایا جائے۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بدھ کو عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ حکومت عدالت کے حکم پر عمل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’آپ دیکھیں، حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست دائر کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی بھی شخص کچھ بھی دائر کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کا عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم اپنی جگہ برقرار ہے۔‘

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت کو اس حکم پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور ان کے بقول اگر ایسا نہ کیا گیا تو ’ یہ توہینِ عدالت کے زمرے میں آئے گا۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ