اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں ایک آسٹریلوی امدادی کارکن زومی فرینک کوم اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے معاملے میں کوئی فوجداری تفتیش نہیں کرے گا، جس پر آسٹریلیا نے سخت ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اس فیصلے کو "خاص طور پر توہینآمیز” قرار دیا اور اسرائیلی سفیر کو طلب کرنے کے ساتھ ہی تل ابیب میں اپنے سفیر کو حکومتی سطح پر مذکورہ موقف پہنچانے کی ہدایت دے دی ہے۔
زمینی حقائق کے مطابق 43 سالہ زومی فرینک کوم یکم اپریل 2024 کو ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکنوں کے قافلے کے ساتھ غزہ کے وسط میں خوراک پہنچاتے ہوئے اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئیں۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصہ اور آزادانہ تفتیش کے مطالبات کو بھڑکا دیا تھا۔ ابتدائی طور پر اسرائیل نے واقعے کو ’’سنگین غلطی‘‘ قرار دیا اور دو افسران کو برطرف کیا تھا، مگر فوجی پراسیکیوٹر نے حال ہی میں کیس بند کرتے ہوئے کہا کہ کوئی مجرمانہ غفلت ثابت نہیں ہوئی۔
وزیرِ خارجہ وونگ نے کہا کہ آسٹریلیا اس نتیجے کو قبول نہیں کرے گا کیونکہ اندرونی فوجی جائزہ ایک غیر جانبدار فوجداری تفتیش کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عالمی یومِ انسانی ہمدردی کی شام کو موصول ہوا، جب عوام امدادی کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے، اور یہ زومی کے اہلِ خانہ اور تمام آسٹریلوی عوام کے لیے خاص طور پر توہینآمیز ہے۔ وونگ نے مزید کہا کہ حکومت انصاف اور شفافیت کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
اس معاملے نے دو طرفہ سفارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ اپوزیشن رہنما بھی وونگ کے موقف کی تائید کر رہے ہیں اور کیس کی بندش کو اخلاقی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ ورلڈ سینٹرل کچن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حملے سے متعلق تمام اندرونی دستاویزات جاری کرے، اور وارننگ دی ہے کہ استثنیٰ کی پالیسی امدادی کارکنوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔

