خواتین کھلاڑیوں کی صحت اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قائم ’گلوبل الائنس فار فیمیل ایتھلیٹس‘ میں مزید پانچ ممالک شامل ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان اور سوئٹزرلینڈ نے اس عالمی اقدام کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس کے بعد اتحاد کے ارکان کی تعداد چار سے بڑھ کر نو ہوگئی ہے۔
یہ اتحاد گزشتہ سال آسٹریلیا، امریکا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ کی متعلقہ تنظیموں نے قائم کیا تھا۔
آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹ کے مطابق نئے ممالک کی شمولیت سے خواتین کے کھیلوں سے متعلق تحقیق میں موجود خلا کو دور کرنے اور کھلاڑیوں، کوچز اور اسپورٹس میڈیسن کے ماہرین کے لیے بہتر معاونت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹ کی فیمیل پرفارمنس ہیلتھ انیشی ایٹو کی سربراہ ریچل ہیرس نے کہا کہ اتحاد کی توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کھلاڑیوں کے لیے مل کر کام کرنے کی خواہش موجود ہے۔
ان کے مطابق مختلف ممالک کے تجربات اور معلومات شیئر کرنے سے نئی تحقیق کے نتائج زیادہ تیزی سے کھلاڑیوں تک پہنچ سکیں گے۔
اتحاد کی اہم ترجیحات میں خواتین سے متعلق طبی تحقیق کو عالمی سطح پر عام کرنا بھی شامل ہے۔
ان مسائل میں گھٹنے کی انجری خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تحقیق کے مطابق خواتین کھلاڑیوں میں یہ چوٹ مردوں کے مقابلے میں دو سے چھ گنا زیادہ عام ہوسکتی ہے۔

