ہند رجب کی دادی نے بدھ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے سالِ رواں جنوری میں غزہ شہر میں ان کی پوتی کی ہلاکت کے حوالے سے کی گئی تحقیقات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ خاندان کو مقامی تحقیقات پر اعتماد نہیں۔ انادولو نیوز کے مطابق دادی نے کہا کہ وہ ایک آزاد بین الاقوامی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔
اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے جنوری 2024 میں ہند رجب کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی اور بعد ازاں اس معاملے کی مجرمانہ نوعیت کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فوج نے مارچ 2025 میں رفح میں 15 امدادی اور طبی کارکنوں کی ہلاکت پر بھی علیحدہ تحقیقات کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم خاندان کا موقف ہے کہ وہ اسرائیلی عدلیہ یا فوجی تحقیقات پر اعتماد نہیں کرتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہند کی گاڑی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
دادی نے کہا کہ ہند اپنے ماموں، ان کی بیوی اور بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھی جب وہ بمباری اور لڑائی سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے، اور فارس پٹرول اسٹیشن کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہنگامی طبی عملہ موقعے پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا تو انہیں بھی نشانہ بنایا گیا۔ خاندان نے ہند کی آخری کال کی آڈیو بھی شائع کی جس میں اس نے امداد کی فریاد کی تھی؛ یہ آڈیو عالمی سطح پر غم و غصے کا باعث بنی۔ ہند اور اس کے ساتھ سفر کرنے والے چھ رشتہ دار اور امدادی عملے کے دو افراد کی لاشیں چند دن بعد ملیں۔
ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھی اسرائیلی تحقیقات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف کی جانب حقیقی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس واقعے نے غزہ میں جاری تشدد کے دوران شہریوں اور طبی کارکنوں کی حفاظت کے مسائل کو اجاگر کیا ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مقامی خاندان آزاد، بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کی مزید شفاف جانچ اور جواب دہی کے مطالبات جاری ہیں۔

