فلاک کیمروں پر سان ڈیاگو اجلاس میں ڈارتھ وِیڈر کی انوکھی تقریر، نگرانی پر طنز


سان ڈیاگو: امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں پولیس کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے متنازع Flock Safety کیمروں پر ہونے والے ایک عوامی اجلاس میں ایک شخص نے مشہور فلمی کردار ڈارتھ وِیڈر کا لباس پہن کر مائیک سنبھالا اور اپنی طنزیہ تقریر سے پورے معاملے کے ایک حساس پہلو کو نمایاں کردیا۔
۱۹؍ اگست ۲۰۲۶ء کو پبلک سیفٹی اینڈ لائیولی نیبرہوڈز کمیٹی کے اجلاس میں مکمل لباس اور ہیلمٹ پہنے اس شخص نے ڈارتھ وِیڈر کی مخصوص بھاری آواز میں فلاک کیمروں کی بظاہر حمایت کی۔ اس نے کہا کہ ’’ایمپائر کو فلاک پسند ہے‘‘ اور یہ ٹیکنالوجی ’’ریبل اسکَم‘‘ کو تلاش کرنے اور اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ اجلاس کی ویڈیو کے مطابق اس نے یہاں تک طنز کیا کہ وہ ان کیمروں کو اپنی سابق گرل فرینڈ کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔
درحقیقت یہ تقریر کیمروں کی حمایت نہیں بلکہ ان کے ممکنہ غلط استعمال پر طنزیہ تنقید تھی۔ مقرر نے اس تصور کو مضحکہ خیز بنا کر پیش کیا کہ کسی شہر میں وسیع نگرانی کا نظام اس حد تک پھیل جائے کہ لوگوں کی روزمرہ نقل و حرکت، کھیل کے میدانوں اور عوامی مقامات تک پر نظر رکھی جا سکے۔ اس نے پولیس کے لیے زیادہ فنڈنگ کی حمایت کے نام پر پارکس، لائبریریوں، ڈے کیئر مراکز اور بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں جیسے عوامی اخراجات کم کرنے کا بھی طنزیہ مشورہ دیا۔
واضح رہے کہ Flock Safety کے خودکار نمبر پلیٹ ریڈر (ALPR) کیمرے امریکہ میں ۶؍ ہزار سے زائد کمیونٹیز میں نصب ہیں اور کمپنی کے مطابق نیٹ ورک میں ۲ء۱؍ لاکھ سے زائد کیمرے شامل ہیں۔ امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے خبردار کیا ہے کہ یہ نظام امریکہ میں ’’قومی سطح کے بڑے پیمانے پر نگرانی کے نظام‘‘ کی تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ ڈیٹا کے ICE جیسے وفاقی اداروں تک پہنچنے پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ بڑھتے دباؤ کے باوجود ACLU نے فلاک کی حالیہ پالیسی تبدیلیوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ