نوجوان تاجر میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے سندھ حکومت نے باضابطہ طور پر عدالتی انکوائری کمیشن قائم کر دیا ہے، تاہم مقتول کے اہل خانہ نے پیر کو عدالتی کمیشن کے قیام کو نامناسب قرار دیتے ہوئے شفاف اور مؤثر تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کر دی ہے۔
میر رضا کے اہل خانہ سندھ ہائی کورٹ پہنچے اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ قتل کیس کی تفتیش کے لیے فوری طور پر بااختیار جے آئی ٹی تشکیل دے کر نئے سرے سے تحقیقات کرائی جائیں۔
محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کی نامزدگی پر جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک رکنی عدالتی انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ کمیشن کو سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت گواہوں کو طلب کرنے، حلف پر بیانات قلمبند کرنے اور سرکاری ریکارڈ طلب کرنے سمیت تمام قانونی اختیارات حاصل ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عدالتی کمیشن میر رضا علی کی موت سے متعلق تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لے گا۔ اس میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کی غیر جانب داری، تفتیشی افسران کے کردار، میڈیکو لیگل افسران (ایم ایل اوز) کی کارکردگی اور ممکنہ پیشہ ورانہ غفلت سمیت شواہد چھپانے یا ان میں کسی قسم کی ردوبدل کی کوششوں کی بھی چھان بین کی جائے گی۔ کمیشن اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد 30 روز کے اندر اپنی حتمی رپورٹ اور سفارشات سندھ حکومت کو پیش کرنے کا پابند ہوگا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب میر رضا علی کے اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ تفتیشی ٹیم کیس کے اصل حقائق سامنے لانے کے لیے درست اور مؤثر انداز میں تحقیقات کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، اس لیے اس مرحلے پر عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ اہل خانہ نے قتل کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک بااختیار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے اور نئے سرے سے تفتیش کا حکم دینے کی استدعا کی ہے۔ جے آئی ٹی کے قیام سے متعلق درخواست تاحال عدالت کی جانب سے باضابطہ سماعت کے لیے منظور نہیں کی گئی۔
میر رضا علی کے اہل خانہ نے عدالتی کمیشن کے قیام کو بھی سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ آج جسٹس عدنان الکریم میمن کے چیمبر میں درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی تحقیقات ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی ہیں اور ایسے مرحلے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل تفتیشی عمل پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ کو فوجداری مقدمے میں باضابطہ چالان کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، اس لیے پہلے پولیس تفتیش مکمل ہونی چاہیے اور کیس کے شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی آگے بڑھنی چاہیے۔ درخواست گزاروں کے مطابق عدالتی کمیشن کی کارروائی سے جاری پولیس تفتیش متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عدالت نے درخواست میں اٹھائے گئے نکات کا نوٹس لیتے ہوئے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ، ڈاکٹر سمیہ اور تفتیشی ٹیم کے ارکان سمیت تمام 19 فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ سندھ ہائی کورٹ نے تمام فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 31 اگست تک ملتوی کر دی۔
یوں ایک جانب سندھ حکومت نے میر رضا علی کی موت کے حقائق جاننے کے لیے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ایک رکنی عدالتی انکوائری کمیشن قائم کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب مقتول کے اہل خانہ نے اس اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے قتل کیس کی باقاعدہ اور شفاف تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ اب 31 اگست کو تمام فریقین کے جوابات کی روشنی میں معاملے کا مزید جائزہ لے گی۔

