پرندوں کو دیکھنے کا منفرد تجربہ فراہم کرنے والا متحرک ٹاور

ٹاور.webp


چین کے شہر ووہان کے چنہو ویٹ لینڈ میں ایک ایسا ٹاور بنایا گیا ہے جو پرندوں کو دیکھنے ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے  یہ حیرت انگیز ٹاور تقریباً 19.9 میٹر (65 فٹ) بلند ہے اور دور سے ایک مڑی ہوئی عمارت کی طرح نظر آتا ہے۔

اس دلکش ٹاور کو شنگھائی کی شیانگ آرکیٹیکٹس نامی کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے اور اسے ایک ایسی جگہ نصب کیا گیا ہے کہ جہاں ہر سال اکتوبر سے مارچ تک ایک لاکھ سے زیادہ مہاجر پرندے آتے ہیں۔

WhatsApp Image 2026 08 23 at 2.34.14 AM

 یہ ٹاور صرف اوپر چڑھ کر پرندوں کو دیکھنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ اسے  اس طرح بنایا گیا ہے کہ اوپر جانے کا سفر بھی ایک آپ کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہو، ٹاور کے اندر دو گھومتی ہوئی سیڑھیاں ہیں۔ ایک سیڑھی اوپر لے جاتی ہے جبکہ دوسری نیچے آنے کے لیے ہے راستے میں 24 چھوٹے پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں۔ ہر پلیٹ فارم سے اردگرد کے علاقے کا مختلف منظر نظر آتا ہے۔

WhatsApp Image 2026 08 23 at 2.33.50 AM

ٹاور میں 9 حصوں پر مشتمل سیڑھیاں ہیں۔ ہر حصہ تقریباً 1.5 میٹر اونچا ہے۔جب لوگ ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف جاتے ہیں تو انہیں زمین، درختوں، پانی اور پرندوں کے مختلف نظارے دکھائی دیتے ہیں۔

WhatsApp Image 2026 08 23 at 2.34.01 AM

یعنی مقصد یہ ہے کہ لوگ صرف جلدی سے ٹاور کی چوٹی پر نہ پہنچیں بلکہ ہر مقام پر رکیں، اردگرد دیکھیں اور ماحول کو محسوس کریں۔جبکہ ٹاور کی چوٹی پر پہنچ کر پورے علاقے کا واضح منظر دکھائی دیتا ہے، جس میں شہر اور دریا بھی شامل ہیں۔

WhatsApp Image 2026 08 23 at 2.34.26 AM

ٹاور کو 24 پہلے سے تیار کیے گئے حصوں سے بنایا گیا ہے۔ اس میں فولاد کے ایسے ڈھانچے استعمال کیے گئے ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف سمت میں گھومتے ہیں۔ یہی ڈھانچہ ٹاور کو مضبوط رکھتا ہے اس میں درمیان میں کوئی بڑا مرکزی ستون بھی نہیں بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نمک اورسولرریفلکشن سے بجلی پیداکرنیوالے چینی ٹوئن ٹاورز

اس ٹاور سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس پر اسٹیل کی تہہ چڑھائی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ قدرتی ماحول میں چھپنے کے بجائے ایک خوبصورت، جدید مجسمے کی طرح نمایاں دکھائی دیتا ہے یہاں تک کہ موسم کے ساتھ اس کی شکل بھی بدلتی محسوس ہوتی ہے دھند میں یہ دھندلا سا دکھائی دیتا ہے صاف موسم میں آسمان کی روشنی منعکس کرتا ہے غروبِ آفتاب کے وقت سنہری رنگ میں چمکتا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ