عمران خان کو منظر سے مٹانے کی کوشش: مائیکل ایتھرٹن کی پاکستان حکومت پر تنقید

imra khan michael atherton d

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور کرکٹ کپتان عمران خان کے معاملے پر پاکستانی ریاست کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں عوامی زندگی سے تقریباً مٹانے کی کوشش کی گئی۔ ایتھرٹن نے یہ بات سابق انگلش کپتان ناصر حسین کے ساتھ اسکائی اسپورٹس کے کرکٹ پوڈکاسٹ میں کہی۔
ایتھرٹن نے کہا کہ ’’بنیادی بات یہ تھی کہ ریاست نے عمران کو تقریباً منظر سے مٹانے کی کوشش کی ہے، جو سوشل میڈیا کے دور میں کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ناصر حسین ان ۲۱؍ سابق بین الاقوامی کپتانوں میں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کے مناسب علاج کے لیے پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے۔
یہ خط اتوار کو وزیر اعظم شہباز شریف کو بھیجا گیا، جس میں انسانی سلوک، مناسب طبی نگہداشت اور اہل خانہ سے ملاقات کی سہولت یقینی بنانے کی درخواست کی گئی۔ خط میں کہا گیا کہ یہ مطالبہ سیاست دانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق ساتھیوں اور حریفوں کے طور پر کیا جارہا ہے۔ یہ اپیل اس وقت سامنے آئی جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، اور ہفتہ وار اہل خانہ سے ملاقاتیں بحال کی گئی تھیں۔
اس اپیل میں کپل دیو، سنیل گواسکر اور دلیپ وینگسرکر جیسے بھارتی کرکٹرز بھی شامل ہیں۔ کپل دیو نے واضح کیا کہ ان کی اپیل قانونی کارروائی کے بارے میں نہیں بلکہ جیل میں انسانی سلوک اور بنیادی سہولتوں سے متعلق ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان ۱۹۹۲ء ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان اور ۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۲ء تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے، وہ ۲۰۲۳ء سے جیل میں ہیں۔ سابق کرکٹر رمیز راجا کے مطابق وہ جیل میں تنہائی میں ہیں اور حال ہی میں آنکھ سے متعلق مسئلہ پیش آیا تھا، تاہم اب بہتر ہیں۔

متعلقہ پوسٹ