اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران صدر ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا بلکہ پاکستان کے ثالثی کردار کے تناظر میں تھا۔
ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، ایس سی او کانفرنس، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی امن سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان 2027 میں ایس سی او کانفرنس کی میزبانی کرے گا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بشکیک میں ایس سی او کانفرنس میں شرکت کریں گے اور کرغزستان کی قیادت سے ملاقات بھی کریں گے۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایس سی او کی ایک سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھالی ہے۔ وزیراعظم ایس سی او کانفرنس کے موقع پر دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ترجمان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو ایران کا دورہ کی جہاں ایرانی حکام سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن کی بحالی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مخلصانہ کردار ادا کیا جسے ایرانی قیادت نے سراہا۔ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران صدر ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں تھا بلکہ یہ دورہ پاکستان کے ثالثی کردار کے تناظر میں کیا گیا۔
نائب وزیراعظم کی ترکیہ کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جبکہ کویتی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ ہوا۔ نائب وزیراعظم نے برطانیہ کا سرکاری دورہ بھی کیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے برادر ممالک سے رابطے جاری رکھے۔ نائب وزیراعظم کا مصری وزیر خارجہ سے 14 اگست کو رابطہ ہوا جبکہ ترک وزیر خارجہ سے 17، 19 اور 25 اگست کو رابطے ہوئے جن میں علاقائی صورتحال اور امن پر گفتگو ہوئی۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیراعظم کا 24 اگست کو کویتی وزیر خارجہ سے بھی رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم کا دورہ برطانیہ پاکستان امریکا تعلقات اور علاقائی امور پر مرکوز ہے۔ انہوں نے عالمی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی اور ایم ٹی آئرنر 25 پر 10 پاکستانی بحری کارکنوں کی رہائی کے لیے مداخلت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ شام کے وزیر خارجہ نے پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں جس میں پاکستان اور شام نے ادارہ جاتی روابط و تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اپنی حمایت بھی دہرائی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 16 اگست کو غزہ سے متعلق 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان جاری ہوا۔ پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے غزہ منصوبے کو مسترد کرنے کی مذمت کی اور منصوبے پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
انکا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک نے 1967 کی سرحدوں پر دو ریاستی حل کی حمایت کی۔ 22 اگست کو شام پر اسرائیلی حملوں کے خلاف 11 اسلامی ممالک کا بیان بھی جاری ہوا جس میں شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی گئی۔
ترجمان طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے پر زور دیا اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے عالمی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

