ایران کو امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی نئی معاشی پابندیوں کا سامنا ہے، جن کا مقصد پہلے سے کمزور ایرانی معیشت پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے 24 اگست کو ان پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ایران سے تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو امریکی ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کیے جانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ تاہم واشنگٹن نے ابھی تک نشانہ بننے والے ممالک کی فہرست جاری نہیں کی۔
جنوبی ساحلی شہر بندر عباس کے دکاندار ان پابندیوں کے براہِ راست اثرات کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں کے باعث درآمدی اشیاء مہنگی ہو رہی ہیں، جس سے عام گھرانوں کا بجٹ بگڑ رہا ہے۔ گھریلو سامان کے تاجر قاسم شجاع کا کہنا ہے: "پابندیاں نقصان تو پہنچاتی ہیں، لیکن ہم ایرانی ہیں اور جانتے ہیں ان کا راستہ کیسے نکالنا ہے۔” کپڑوں کے تاجر اومد باگاپور دریائی نے حکام پر عوامی مشکلات سے لاتعلقی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عہدیدار وہ ہے جو میدان میں آ کر عوام کے ساتھ کھڑا ہو۔
دوسری جانب تہران انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ اس دباؤ کا مقابلہ کر سکتی ہے، اور اسے امید ہے کہ چین اور روس جیسے بڑے تجارتی شراکت دار امریکی دباؤ کے باوجود کاروبار جاری رکھیں گے۔
اس تمام صورتحال میں آبنائے ہرمز کا بحران بھی برقرار ہے، جو عالمی بحری تجارت کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ منگل کو ایران اور عمان نے اس آبی گزرگاہ پر متبادل راستہ بنانے اور بارودی سرنگیں ہٹانے سے متعلق بات چیت کی۔ قاسم شجاع نے اس بارے میں کہا: "آبنائے ہرمز ہمارا گھر ہے۔ جب تک ہم اجازت نہ دیں، اسے بند ہی رکھا جانا چاہیے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس بحران کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

